Results 1 to 2 of 2

Thread: ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

    ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے
    کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے
    ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست
    سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے
    میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے
    کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے
    فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
    میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے
    سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ
    اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے
    دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے
    جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے
    خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ
    ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے
    ٭٭٭

    2gvsho3 - ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

    2gvsho3 - ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •