Results 1 to 2 of 2

Thread: نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,275
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214781

    New5555 نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

    نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
    بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا بدن
    سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
    نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
    دلِ فریب زدہ! دعوتِ نظر پہ نہ جا
    یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن
    غریبِ شہر کسی سایۂ شجر میں نہ بیٹھ
    کہ اپنی چھاؤں میں خود جل رہے ہیں سرو و سمن
    بہارِ قرب سے پہلے اجاڑ دیتی ہیں
    جدائیوں کی ہوائیں محبتوں کے چمن
    وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک
    وصالِ یار کی لذت سے ٹوٹتا ہے بدن
    پھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
    سنائی دی ہے دلِ نامراد کی دھڑکن
    یہ ظلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے مگر
    مری غزل میں ترا نام بھی ہے جرمِ سخن
    امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
    کبھی بہ حیلۂ مذہب کبھی بنامِ وطن
    ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بجھتا
    مگر فرازؔؔ سلامت ہے یار کا دامن
    ٭٭٭

    2gvsho3 - نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,275
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214781

    Default Re: نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

    2gvsho3 - نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •