Results 1 to 2 of 2

Thread: دجلہ از شفیق الرحمان

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,702
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    candel دجلہ از شفیق الرحمان

    دجلہ

    اقتباس

    خبردار یہ پہلی دفعہ ہے
    اگلے روز منصور نے پوچھا کہ اب ایک صحرا نشیں شیخ سے ملو گے، میں نے بدوں کی مہمان نوازی کی کہانیاں سنی تھیں کہ جو بدو شہروں سے دور صحرا میں رہتے ہیں وہ واقعی مہمانوں کو سرآنکھوں پر لیتے ہیں۔ کوئی آ جائے تو یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ صاحب گھر میں نہیں ہیں،یا نہا رہے ہیں بلکہ یہ شعر پڑھا جاتا ہے اے ہمارے معزز مہمان آپ دور سے تشریف لائے، ہماری عزت افزائی ہوئی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم مہمان ہیں اور آپ صاحب خانہ۔ (مہمان بھی شرافت سے کام لیتا ہے اور اگلی صبح کو روانہ ہو جاتا ہےایسے موقعوں پر میزبان کی بیوی کا نام نہیں لیا جاتا (اگر وہ ڈنر میں شامل نہ ہو تواسے دقیانوسی نہیں سمجھا جاتااتفاقااس کا ذکر آ جائے تو مہمان ادب سے اسے العیال کہتے ہیں۔
    یہ بھی سنا تھا کہ بدو کی دعوت ہمیشہ قبول کر لینی چاہئے۔ایک مرتبہ کسی شیخ نے ایک غیر ملکی کو شادی کی تقریب پر مدعو کیا اس نے معذوری ظاہر کی اور معافی مانگ لی۔چنانچہ صحیح تاریخ پر اسے اغوا کر لیا گیا اور دعوت میں شامل کر کے بعد میں واپس بھیج دیا گیا۔اگلے روز اسے شیخ کا خط ملا ج سمیں شمولیت کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
    شیخ کا دعوت نامہ آیا تو ہم سبب بھول گئے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد نخلستان آیا،شیخ ہمارا منتظرتھا۔ اسی کے لگ بھگ عمر،تانبے جیسارنگ،کشادہ سینہ مسکراتاہواچہرہ،بتیس دانتوں میں سے ایک بھی مصنوعی نہیں تھا اس جوان بوڑھے کو دیکھ کر ہم جوانوں پر بڑھاپا طاری ہو گیا۔کئی مودب ملازم کھڑے تھے لیکن وہ کسی کو ہمارے قریب نہ آنے دیتا، خود سگریٹ پیش کرتا، سلگاتا،راکھدانی سامنے رکھتا،شربت بنا کر دیتا۔ پھر ہم سب کو دوسرے کمرے میں لے گیا دروازہ بند کر کے الماری کھولی"میں خود تواس سے محروم ہوں لیکن معزز مہمان شوق فرمائیں"،اس نے انگریزی میں مخاطب ہو کر کہا۔ الماری میں وہسکی اورسوڈے کی بوتلیں تھیں جن پر گرد جمع تھی۔ طشت میں برف کی ڈالیاں تھیں سب خاموش ہو گئے، کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا۔
    ضیافت بے حد پر تکلف تھی لیکن اس نے ایک لقمہ نہ چکھا مہمانوں کے سامنے چیزیں رکھتا رہا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا۔
    "اس عمر میں ایسی قابل رشک صحت کا راز کیا ہے"برٹن نے پوچھا۔ (جس کے آدھے حصے سے زیادہ دانت مصنوعی تھے)
    "نخلستان میں کئی ایسے ہیں جو مجھ سے بڑے اور مجھ سے زیادہ تندرست ہیں"
    "منصور کہتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی بے حد خوشگوار رہی ہے۔ شادی ہوئے ساٹھ برس گزر گئے لیکن کبھی ام العیال سے لڑائی نہیں ہوئی۔ آپ نے یہ معرکہ کیسے مارا؟"برٹن نے پوچھا۔
    میں اپنے کام میں مصروف رہتا ہوں وہ اپنے کام میں+لگی رہتی ہے۔اس کی نوبت ہی نہیں آتی۔
    "آپ چھپا رہے ہیں کوئی وجہ تو ضرور ہو گی"۔
    "مدتیں گزری ایک معمولی ساواقعہ پیش آیا تھا میں بے حد مفلس تھا۔ کسی سے اونٹنی مانگ کر شادی کرنے گیا۔ سادہ سی رسم کے بعد بیوی کو اونٹنی پر بٹھا کر واپس روانہ ہوا ایک جگہ اونٹنی بلاکسی وجہ کے مچلنے لگے بہتیرا پیار سے تھپتھپایا لیکن قابو میں نہ آئی۔نیچے اتر کر مہار کھینچی۔ بڑی مشکل سے سیدھی ہوئی۔ تواسے تنبیہ کی۔ اونٹنی!یہ حرکت پہلی دفعہ کی ہے۔ پھر مت کرنا۔ ہم روانہ ہوئے بمشکل آدھ میل گئے ہوں گے کہ جھاڑیوں سے چند پرندے اڑے اور وہ بدک کر کودنے لگے میں چھلانگ لگا کر نیچے اترا، بڑی مصیبتوں سے اسے رام کیا۔اوراس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا خبردار اونٹنی!یہ دوسری دفعہ ہے۔ آگے ایک کھیت میں ذرا ذرا پانی کھڑا تھا وہ پھر مستیاں کرنے لگی میں نے کندھے سے بندوق اتار کر وہیں ہلاک کر دیا۔ بیوی یا تو اب تک بالکل گونگی تھی یا یکلخت بر س پڑی۔ مجھے خر دماغ، ظالم اور بیوقوف کہا کہ طیش میں آ کر اپنا نقصان کر لیا۔ میں نے سب کچھ سن کر اسے تنبیہ کی۔ خبردار بیوی!یہ پہلی دفعہ ہے۔ حضرات ساٹھ برس گزر گئے اوردوسری مرتبہ خبردار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

    2gvsho3 - دجلہ از شفیق الرحمان

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,702
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    Default Re: دجلہ از شفیق الرحمان

    2gvsho3 - دجلہ از شفیق الرحمان

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •