Results 1 to 2 of 2

Thread: کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,702
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    New5555 کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا


    کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا
    وہ غزل کا لہجہ نیا نیا ، وہ کہا ہوا ، نہ سنا ہوا

    جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا
    کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہو

    کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی
    کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ہوا

    وہی خط کہ جس پہ جگہ جگہ دو مہکتے ہونٹوں کے چاند تھے
    کبھی بھولے بسرے سے طاق پر تہ گرد ہو گا دبا ہوا

    مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسین بنا دیا
    مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو مہندیوں سے رچا ہوا

    وہی شہر ہے وہی راستے وہی گھر ہے اور وہی لان بھی
    مگر اس دریچے سے پوچھنا وہ درخت انار کا کیا ہو

    مرے ساتھ جگنو ہے ہمسفر مگر اس شرر کی بساط کیا
    یہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
    ***



    2gvsho3 - کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,702
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    Default Re: کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا

    2gvsho3 - کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں رہے ربن سے بندھا ہوا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •