Results 1 to 2 of 2

Thread: پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,778
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    New5555 پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں

    پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں
    چاندی کے فوارے لگے ہیں اس کے قصر ناز میں
    افسردہ سی رہتی ہے وہ تسکین و راحت ہی نہیں
    باہر فصیل قصر ہے ،مخلوق ہے کس حال میں؟
    یہ جاننے، محسوس کرنے کی ضرورت ہی نہیں
    چھت جس نے ہم سے چھین لی ،جلتی جھلستی دھوپ میں
    کیا صلح ہم اس سے کریں جس کو ندامت ہی نہیں
    یہ جھوٹے سچے فیصلوں پر کس قدر مسرور ہیں
    یاد ان کو اک سب سے بڑی ،رب کی عدالت ہی نہیں
    کچھ سنگ مرمر کے سے بت پہلی ہی صف میں سج گئے
    پھر کیا کرے شاعر جہاں حسن سماعت ہی نہیں
    آٹو گراف اس نے لیا پھر زیر لب پوچھا گیا
    کیا چارہ گر کی اب مرے شاعر کو حاجت ہی نہیں
    ***


    2gvsho3 - پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,778
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    Default Re: پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں

    2gvsho3 - پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •