Results 1 to 2 of 2

Thread: اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں


    فرار


    اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
    اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
    اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں
    اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے

    میرے ماضی کو اندھیروں میں دبا رہنے دو
    مرا ماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں
    میری امیدوں کا حاصل مری کاوش کا صلہ
    ایک بے نام اذیّت کے سوا کچھ بھی نہیں

    کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر
    میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
    کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم سائے
    اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر

    مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو
    مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں
    اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں
    میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں

    مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں
    عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں
    ان کو اپنانے کی خواہش انہیں پانے کی طلب
    شوقِ بے کار سہی، سعئ غم انجام نہیں

    وہی گیسو، وہی نظریں ، وہی عارض، وہی جسم
    میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں
    وہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھا
    ان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    2gvsho3 - اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

    2gvsho3 - اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •