Results 1 to 2 of 2

Thread: ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

    ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
    میرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں

    میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام سب کا جگا ہوا
    ذرا ٹھر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گذار لوں

    اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو
    تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں

    کہیں اور بانٹ دے شہر میں کہیں اور بخش دے عزتیں
    میرے پاس ہے مرا آئینہ میں کبھی نہ گرد و غبار لوں

    کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گذر گئے
    جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کہ پکار لوں
    ***


    2gvsho3 - ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

    2gvsho3 - ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •