Results 1 to 2 of 2

Thread: خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم


    خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم



    وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے
    ہواؤں کے خد و خال آزمانا چاہتے تھے
    آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے
    کون جانے کون سا صیاد کسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو
    کون سی شاخوں ہی کیسے گل کھلانا چاہتا ہو
    شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری
    حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں
    اور نشانے مستند ہیں
    جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں
    ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں
    خداوند تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند
    صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی قسم
    اُڑانوں کے لئے پر تولنے والوں پر ایک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والے
    کوئی موسم بشارت دینے والا
    ٭٭٭

    2gvsho3 - خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

    2gvsho3 - خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •