خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم



وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے
ہواؤں کے خد و خال آزمانا چاہتے تھے
آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے
کون جانے کون سا صیاد کسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو
کون سی شاخوں ہی کیسے گل کھلانا چاہتا ہو
شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری
حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں
اور نشانے مستند ہیں
جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں
ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں
خداوند تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند
صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی قسم
اُڑانوں کے لئے پر تولنے والوں پر ایک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والے
کوئی موسم بشارت دینے والا
٭٭٭