Results 1 to 2 of 2

Thread: وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے

    وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے
    سحر ہوئی بھی مگر روشنی کے در نہ کھلے

    میں موج موج سے لپکا بھی ساحلوں کی طرف
    بندھے ہوئے تھے بدن سے جو وہ بھنور نہ کھلے

    بھرے ہجوم میں تنہا بس ایک میں ہی تو تھا
    میرے ہی ساتھ فقط میرے ہم سفر نہ کھلے

    میں جان کر بھی اسے بڑھ رہا ہوں اس کی طرف
    سراب دیکھ کے بھی چشمِ بے خبر نہ کھلے

    بدن جلاتی ر ہی خشک شاخ کی چھاؤں
    بہار بیت گئی ، جوہرِ شجر نہ کھلے

    عقاب دیکھ کے پتھرا گیا میں اڑتے ہوئے
    زمیں پہ ٹوٹ گیا ، گر کے میرے پر نہ کھلے

    زمیں پہ بیٹھ گیا ہوں میں آشیاں لے کر
    میرے لیے تو کہیں بازوئے شجر نہ کھلے

    مگر بندھی ہی رہی کوہِ سبز کی گٹھڑی
    جھلستے پاؤں چھاؤں کے یہ سفر نہ کھلے

    وہ سامنے میرے بھیگا ہوا کھڑا ہے عدیم
    کچھ اور دیر ابھی کاش چشمِ تر نہ کھلے



    2gvsho3 - وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے

    2gvsho3 - وہ ابر تھے کہ برس کر بھی رات بھر نہ کھلے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •