Results 1 to 2 of 2

Thread: عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

    عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
    جس دل پہ ناز تھا مجھے ، وہ دل نہیں رہا
    جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے
    ہوں شمعِ کشتہ، در خورِ محفل نہیں رہا
    وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن
    غیر از نگاہ، اب، کوئی حائل نہیں رہا
    گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
    لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
    مرنے کی، اے دل !اور ہی تدبیر کر، کہ میں
    شایانِ دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
    دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں
    حاصل، سوائے حسرتِ حاصل، نہیں رہا
    ہوں قطرہ زن بمرحلہ یاس، روز و شب
    جز تارِ اشک، جادۂ منزل نہیں رہا
    بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا، پر، اسدؔ!
    جس دل پہ ناز تھا مجھے ، وہ دل نہیں رہا



    2gvsho3 - عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

    2gvsho3 - عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •