Results 1 to 2 of 2

Thread: حکایتِ سعدیؒ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel حکایتِ سعدیؒ

    حکایتِ سعدیؒ
    ایک دن اکبر اور بیربل باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے اور بیربل اکبر کو ایک مزاحیہ کہانی بیان کررہا تھا جس سے اکبر بڑا لطف اندوزہو رہا تھا۔ اچانک اکبر کو بانس کی چھڑی نظر آئی جو کہ زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کے ذہن میں بیربل کو تنگ کرنے کاخیال آیا۔
    اس نے بیر بل کو وہ بانس کی چھڑی دکھائی اور اس سے سوال کیا: ’’کیا تم اس چھڑی کو کاٹے بغیر چھوٹا کر سکتے ہو؟‘‘ بیربل نے کہانی کو سنانابند کر دیا اور اکبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔ اکبر اس پر شرارتی اندازمیں ہنسا تو بیر بل سمجھ گیا کہ اکبر مجھ سے مذاق کرنے کے موڈمیں ہے یا وہ مجھ سے مذاق کرنا چاہتا ہے۔ بہرحال اس ایک سوال کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے۔ بیر بل نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔ اس نے اپنے گرد مالی کو گھومتے دیکھا جس کے ہاتھ میں دراز (لمبی) بانس کی چھڑی تھی۔ بیربل نے مالی کو اشارہ کر کے بلایا۔ جب مالی قریب آیا تو اس نے مالی سے وہ چھڑی لے لی اور اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا۔ پھر اس نے اس بانس کی چھڑی کو کھڑا کر دیا جو ا س کو شہنشاہ نے دی تھی اپنے بائیں ہاتھ میں۔ اب بیربل نے شہنشاہ سے کہا: ’’اب یہاں پر نظردوڑائیں (دیکھیں)‘‘ ’’آپ کی چھڑی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔میں نے اسے کاٹا بھی نہیں ہے پھر بھی یہ چھوٹی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ میںنے باغبان کی چھڑی پکڑی ہوئی ہے جو کہ دراز ہے۔‘‘ یہ سن کر اکبر بہت خوش ہوا اور بیربل کے کندھے پر شاباش کی تھپکی دی۔

    2gvsho3 - حکایتِ سعدیؒ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: حکایتِ سعدیؒ

    2gvsho3 - حکایتِ سعدیؒ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •