Results 1 to 2 of 2

Thread: اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,202
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5861
    Rep Power
    214774

    New5555 اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

    اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے
    دشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے

    حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و دَر میں تھا
    نگلے ہوئے سوال تھے، اُگلے ہوئے جواب تھے

    اب کے برس بہار کی، رُت بھی تھی اِنتظار کی
    لہجوں میں سیلِ درد تھا، آنکھوں میں اضطراب تھے

    خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے
    پھولوں کے ہاتھ جل گئے، کیسے یہ آفتاب تھے!

    سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!

    عمر اسی تضاد میں، رزقِ غبار ہو گئی
    جسم تھا اور عذاب تھے، آنکھیں تھیں اور خواب تھے

    صبح ہوئی تو شہر کے، شور میں یوں بِکھر گئے
    جیسے وہ آدمی نہ تھے، نقش و نگارِ آب تھے

    آنکھوں میں خون بھر گئے، رستوں میں ہی بِکھر گئے
    آنے سے قبل مر گئے، ایسے بھی انقلاب تھے

    ساتھ وہ ایک رات کا، چشم زدن کی بات تھا
    پھر نہ وہ التفات تھا، پھر نہ وہ اجتناب تھے

    ربط کی بات اور ہے، ضبط کی بات اور ہے
    یہ جو فشارِ خاک ہے، اِس میں کبھی گلاب تھے

    اَبر برس کے کھُل گئے، جی کے غبار دھُل گئے
    آنکھ میں رُو نما ہوئے، شہر جو زیرِ آب تھے

    درد کی رہگزار میں، چلتے تو کِس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    2gvsho3 - اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,202
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5861
    Rep Power
    214774

    Default Re: اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

    2gvsho3 - اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •