Results 1 to 2 of 2

Thread: لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے


    لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
    بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے
    وائے ناکامی ، فلک نے تاک کر توڑا اسے
    میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے
    آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملت سے تری
    ایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے
    دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں
    لوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے
    جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چن کے تو
    آ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لیے
    پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر
    ورنہ میں ، اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے!
    اس چمن میں مرغ دل گائے نہ آزادی کا گیت
    آہ یہ گلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے


    2gvsho3 - لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے

    2gvsho3 - لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •