Results 1 to 2 of 2

Thread: حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

    حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے
    چراغ سامنے جیسے ہَوا کے رکھے تھے

    بس ایک اشکِ ندامت نے صاف کر ڈالے
    وہ سب حساب جو ہم نے اُٹھا کے رکھے تھے

    سمومِ وقت نے لہجے کو زخم زخم کیا
    وگرنہ ہم نے قرینے صَبا کے رکھے تھے

    بکھر رہے تھے سو ہم نے اُٹھا لیے خود ہی
    گلاب جو تری خاطر سجا کے رکھے تھے

    ہوا کے پہلے ہی جھونکے سے ہار مان گئے
    وہی چراغ جو ہم نے بچا کے رکھے تھے

    تمہی نے پاؤں نہ رکھا وگرنہ وصل کی شب
    زمیں پہ ہم نے ستارے بچھا کے رکھے تھے!

    مٹا سکی نہ انہیں روز و شب کی بارش بھی
    دلوں پہ نقش جو رنگِ حنا کے رکھے تھے

    حصولِ منزلِ دُنیا کُچھ ایسا کام نہ تھا
    مگر جو راہ میں پتھر اَنا کے رکھے تھے!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    2gvsho3 - حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

    2gvsho3 - حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •