جب ترا انتظار رہتا ہے
دل بہت بے قرار رہتا ہے

روح کو بے بسی سی رہتی ہے
درد با اختیار رہتا ہے

دل ہے بے چینیوں کی مٹھی میں
ذہن پر تو سوار رہتا ہے

اک ترا دھیان آریوں کی طرح
روح کے آر پار رہتا ہے

وہم ہے یہ مجھے کہ تیری طرف
اک مرا غمگسار رہتا ہے

شب بہت بے قرار رہتا ہے
دن بہت سوگوار رہتا ہے
***