Results 1 to 2 of 2

Thread: حکایت سعدیؒ آزادی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,189
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5861
    Rep Power
    214774

    candel حکایت سعدیؒ آزادی

    23120 46202184 - حکایت سعدیؒ آزادی
    بیان کیا جاتا ہے کہ دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بادشاہ کی سرکار میں ملازم تھا اور دوسرا محنت مزدوری کر کے آزادی سے اپنی روزی کماتا تھا۔ ایک دن امیر بھائی اپنے غریب بھائی سے ملنے آیا تو گفتگو کے دوران کہنے لگا بھائی! میں تو کہتا ہوں کہ تم بھی بادشاہ کی ملازمت اختیار کر لو۔ محنت مزدوری کر کے تو تمھارا گزارا بھی نہیں ہوتا۔ مشکل سے دو وقت روکھی سوکھی ملتی ہے۔ اپنے امیر بھائی کی بات سن کر غریب بھائی نے کہا، تم مجھے بادشاہ کی نوکری اختیار کرنے کی ترغیب دے رہے ہو اور میں یہ کہتا ہوں تم پرائی تابعداری ترک کر کے آزادی کی زندگی اختیار کیوں نہیں کرتے۔ عقلمندوں نے کہا ہے جَو کی سوکھی روٹی کھا کر آزاد زندگی بسر کرنا اس سے لاکھ درجے بہتر ہے کہ سنہری پٹکا کمر سے باندھ کر بادشاہ کی خدمت کرے۔ تمام عمر اسی فکر میں ہوئی برباد ملے گا کیا تجھے آج اور کھائے گا کل کیا کمر جھکاتا ہے ذلت سے بادشاہ کے حضور ہوس کو دل سے نکال اور صبر کو اپنا حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں بندگی، بے چارگی کی برائیوں اور آزاد زندگی کی برکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملازمت خواہ بادشاہ ہی کی کیوں نہ ہو باعث ذلت ہے۔ ٭…٭…٭
    2gvsho3 - حکایت سعدیؒ آزادی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,189
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5861
    Rep Power
    214774

    Default Re: حکایت سعدیؒ آزادی

    2gvsho3 - حکایت سعدیؒ آزادی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •