Results 1 to 2 of 2

Thread: اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں

    اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں
    جب سے جانا کہ اب کوئی منزل نہیں منزلیں راہ میں آتی جاتی ہیں

    رات پریاں فرشتے ہمارے بدن مانگ کر برف میں جل رہتے تھے مگر
    کچھ شبیہیں کتابوں کے بجھتے دیے کاغذی مقبروں میں جلاتی رہیں

    سارے دن کی تپی ساحلی ریت پر دو تڑپتی ہوئی مچھلیاں سو گئیں
    اپنے ملنے کی وہ آخری شام تھی لہریں آتی رہیں لہریں جاتی رہیں

    ننگے پاؤں فرشتوں کا اک طائفہ آسماں سے زمیں پر اترنے لگا
    سر برہنہ فلک زادیاں عرش سے آنسووں کے ستارے گراتی رہیں

    اک دریچے میں دو آنسوؤں کا سفر رات کے راستوں کی طرح کھو گیا
    نرم مٹی پہ گرتی ہوئی بتیاں سونے والوں کو چادر اڑھاتی رہیں
    ***


    2gvsho3 - اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں

    2gvsho3 - اڑتے بادل بزرگوں کی شفت بنے دھوپ میں لڑکیاں مسکراتی رہیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •