Results 1 to 2 of 2

Thread: زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

    زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے
    ہے کوئی بات جسے تم نے چھپا رکھا ہے
    چند بے ربط سے صفحوں میں، کتابِ جاں کے
    اِک نشانی کی طرح عہدِ وفا رکھا ہے
    ایک ہی شکل نظر آتی ہے، جاگے، سوئے
    تم نے جادُو سا کوئی مجھ پہ چلا رکھا ہے
    یہ جو اِک خواب ہے آنکھوں میں نہفتہ، مت پوچھ
    کس طرح ہم نے زمانے سے بچا رکھا ہے!
    کیسے خوشبو کو بِکھر جانے سے روکے کوئی!
    رزقِ غنچہ اسی گٹھڑی میں بندھا رکھا ہے
    کب سے احباب جِسے حلقہ کیے بیٹھے تھے
    وہ چراغ آج سرِ راہِ ہوا، رکھا ہے
    دن میں سائے کی طرح ساتھ رہا، لشکرِ غم
    رات نے اور ہی طوفان اٹھا رکھا ہے
    یاد بھی آتا نہیں اب کہ گِلے تھے کیا کیا
    سب کو اُس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے
    دل میں خوشبو کی طرح پھرتی ہیں یادیں، امجدؔ
    ہم نے اس دشت کو گلزار بنا رکھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    2gvsho3 - زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

    2gvsho3 - زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •