Results 1 to 2 of 2

Thread: شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ

    شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ
    23136 50596621 - شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ
    شیخ نوید اسلم
    پاکستان کے جن شمالی علاقوں میں آثارقدیمہ پائے جاتے ہیں ان میں ہنزہ ، گلگت بلتستان، نگر، چلاس، دیر سوات اور کوہستان کے علاقے شامل ہیں ۔ 1981ء میں ڈاکٹر احمد حسن دانی اور جرمن ٹیم کے ماہرین نے ان علاقوں کا باقاعدہ سروے کیا، اس سے پہلے ان علاقوں میں بہت کم کام ہوا تھا ۔سب سے پہلے ہنزہ میں پتھروں پر کندہ نقوش کا جائزہ لیا گیا ۔ ان پر جانوروں کی تصویریں، شکار کی تصویریں، سٹوپہ، خروشتی، برہمی، سوگدین اور آخری گپتا دور کے رسم الخط میں تحریریں کندہ ہیں، ایک قدیم چینی تحریر بھی ملی ہے، خروشتی تحریروں میں کشان بادشاہ ویمالڈناٹس، کنتکا اور ہوشکا کا ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ تصاویر میں بھی دو اشخاص کنتکا دور کے لباس میں بتائے گئے ہیں۔ اس علاقے میں بہت سے پرانے قلعے، تباہ شدہ سٹوپہ اور دوسرے بیش قیمت آثار دریافت ہوئے ہیں۔ سکردو اور سوات میں لکڑی سے تعمیر شدہ دو مساجد ہیں جو ابتدائی دور کی ہیں جن کے انداز کی چھاپ بعد میں کشمیر کی عمارات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہنزہ میں مغل دور سے پہلے کا ایک قلعہ ملاہے جو ’’الستیت‘‘ کا قلعہ کہلاتا ہے۔ اس پر 1503ء کندہ ہے اس سلسلے کی نسبتاً حالیہ دریافت محمود غزنوی کے زمانے کی ایک مسجد ہے جسے اٹلی کے ماہرین نے سوات میں اڈی گرام کے مقام پر دریافت کیا ہے۔ گلگت میں ملنے والی تحریروں میں اس جگہ آنے والے پرانے سیاحوں کے نام بھی درج ہیں۔ چلاس کے علاقے میں ایک خروشتی کی تحریر ملی ہے جسے اول ریایٹس نے بدھ مت کی کہاوت قرار دیا ہے اور اس کی تاریخ ستھین دور یعنی پہلی صدی قبل از مسیح مقرر کی گئی ہے۔ یہاں سے ملنے والی تحریروں سے اندازہ ہو تا ہے کہ یہاں کے لوگ گیارہوں اور بارہویںصدی تک آباد رہے کیونکہ یہاں سے ناگری رسم الخط سے تھوڑا پہلے کے سٹائل میں تحریریں ملی ہیں۔ دو اور مقام جے چند اور تھالپان ہیں۔ جہاں سے بہت سی چٹانی تصویریں ملی ہیں جن میں سٹوپہ ، بدھتیوا، مالاراما اور کرشن کی تصاویر شامل ہیں۔ ایک اور تصویر میں ایک شخص سٹوپہ کے سامنے دو زانوں بیٹھا ہوا ہے اور اس کے لباس سے ظاہر ہے کہ وہ وسط ایشیا کا رہنے والا ہے۔ بیٹھنے کا یہ انداز سمر قند سٹائل سے مشابہ ہے۔ زیارت کے قریب قبل از تاریخ دور کی تصاویر چٹانوں پر ملی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں رہنے والوں اور ان تصویروں کے خالق کا سارا دارومدار شکار پر تھا۔ جگہ جگہ جنگلی بیل اور مارخور کے شکار کی تصاویر بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے ان کی کھال کا لباس پہنا ہوا ہے شکار کے لئے جو ہتھیار دکھائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر تیر اور کمان ہیں۔ بعد کے زمانے کی تصاویر میں گھڑ سوار اور تلوار سے شکار کرنے کی تصاویر بھی ملی ہیں۔ ان تصاویر میں سانپوں کی تصاویر بھی شامل ہیں،کئی جگہ انہیں انسانوں کو کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، کتے اور گدھے کی تصاویر بھی ملی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں اس وقت بھی پالتو جانور تھے اور پتھر کے آخری دنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھ اور پیروں کے علامتی نشانات بھی بنائے گئے ہیں۔ جن کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ انسانوں کو قد کے حساب سے کافی لمبا بنایا گیا ہے اس کی وجہ بھی سمجھی نہیں جا سکی۔ بہر حال یہ تمام شواہد اس علاقے میں قدیم زمانے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس قسم کی تصاویر مزید شمال کی جانب شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ بھی ملی ہیں۔ علاقے میں باقاعدہ کھدائیاں 1955ء سے1968ء کے دوران ہوئیں۔1955-66ء میں سوات اور دیر کے وسط میں واقع نموگرام کے مقام پر کھدائی ہوئی۔ یہاں تین بڑے سٹوپہ ایک قطار میں ملے اور 58 نذرانے کے طور پر بنائے گئے ہیں۔ یہاں سے ملنے والے سکوں کی بنیاد پر ان کو دوسری تیسرے صدی عیسوی کا قرار دیا گیا ہے۔ یہ سکے اس سٹوپہ کی اصل بنیاد کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ یہاں سے ملنے والے سبزی مائل پتھر کے بت بعد کے زمانے کے ہیں۔ 1968-69ء میں اس علاقے میں چند اور بدھ مت کی سائٹس انڈان ڈھیری، چٹ پٹ، دم کوٹ،حبہ گئے، ماچھووا، املوک درا، طمسی خان، راموڑہ ، بمولی،کمال خان، چیتا، گپت، باش قلعہ، ڈودا،اور کٹ عید کی کھدائیاں ہوئیں۔ ان تمام کھدائیوں کا مقصد گندھارا آرٹ کی بتدریج ترقی اور ان سائٹس کا تقابلی جائزہ لینا تھا۔ اٹلی کے ماہرین نے 1962-64ء اور 1980-81ء میں اڈی گرام اور بت کڑا میں کھدائیاں کیں۔ اڈی گرام میں ’’ بازار‘‘ نامی شہر دریافت ہوا جو باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ ایک فیکٹری پر یونانی رسم الخط میں تحریر بھی ملی ہے، جو چوتھی صدی قبل از مسیح کے زمانے کی ہے۔ ساسانیوں کی آمد کے بعد یہ سائٹ تباہ ہوگئی۔ بت کڑا میں دریافت ہونے والے بڑے سٹوپہ کے اردگرد بہت سے سیڑھیاں جنوب کی جانب ہیں اور ایک طرف بہت سے کمروں کی قطار ہے اور مندر بھی۔ یہ تمام عمارتیں بار بار ٹوٹی اور بنی ہیں۔ اور تیسری صدی قبل از مسیح سے لے کر دسویں صدی تک استعمال میں رہیں۔ چینی سیاح سنگ ینگ 510عیسوی میں بن تولونامی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ یہی بت کڑا اور سٹوپہ ہے جو اپنے وقت کا سب سے بڑا اور مشہور مندر تھا۔

    2gvsho3 - شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ

    2gvsho3 - شمالی علاقوں میں آثار ِقدیمہ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •