Results 1 to 2 of 2

Thread: کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے

    کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے!
    ترا کیا اُصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا جواب دے!

    جو بچھا سکوں ترے واسطے، جو سجا سکیں ترے راستے
    مری دسترس میں ستارے رکھ، مری مُٹھیوں کو گلاب دے

    یہ جو خواہشوں کا پرند ہے، اسے موسموں سے غرض نہیں
    یہ اُڑے گا اپنی ہی موج میں، اِسے آب دے کہ سراب دے!

    تجھے چھُو لیا تو بھڑک اُٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے
    اِسی آگ میں مجھے راکھ کر، اسی شعلگی کو شباب دے

    کبھی یوں بھی ہو ترے رُو برو، میں نظر مِلا کے یہ کہہ سکوں
    ’’مری حسرتوں کو شمار کر، مری خواہشوں کا حساب دے!،،

    تری اِک نگاہ کے فیض سے مری کشتِ حرف چمک اُٹھے
    مِرا لفظ لفظ ہو کہکشاں مجھے ایک ایسی کتاب دے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



    2gvsho3 - کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے

    2gvsho3 - کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •