التجا

مرے شکاریو! امان چاہتا ہوں
بس اب سلامتی جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں
مرے شکاریو ! امان چاہتا ہوں
میں ایک بار پہلے بھی ہرے بھرے دنوں کی آرزو میں زیر دام آ چکا ہوں
مجھ کو بخش دو
میں اس سے پہلے بھی تو سایہ شجر کی جستجو میں اتنے زخم کھا چکا ہوں
مجھ کو بخش دو
مرے شکاریو۔۔۔۔ امان چاہتا ہوں میں
بس اب سلامتی جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں میں
بس ایک گھر زمین و آسمان کے درمیان چاہتا ہوں میں
مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میں
٭٭٭