Results 1 to 2 of 2

Thread: سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

    سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان
    142 81671897 - سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

    یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ عمر کیساتھ ساتھ انسان بوڑھا ہوجاتاہے،جسمانی عضاء کمزور پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اورآخر کار اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتاہے ۔ دیگر جسمانی عضاء کے مقابلے میں انسانی دماغ 20 سال کی عمر میں بھی بوڑھا ہوسکتاہے۔
    یادداشت کی خرابی 20سال کی عمر میں بھی جنم لے سکتی ہے لیکن ہم اسے اہمیت نہیں دیتے ۔الزائمر اور ڈی مینشیا کے امراض کا تعلق بڑھتی عمر سے ضرور ہے مگر یہ کسی بھی عمر میں ہوسکتے ہیں ۔آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا’’اوہ ہو، یہ بات تو میرے ذہن سے نکل گئی‘‘ یا’’اف ،یہ نام ،نمبر تو ابھی ذہن سے نکل گیا ہے‘‘۔بھولنے کی عادت 20سال کی عمر میں بھی ہوسکتی ہے ۔انہیں دوسرے کی بات سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے ۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ اس قسم کی خرابیوں میں مبتلا 66فیصد لوگ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔برین ماس(Brain Mass)دماغ کا بیرونی حصہ (Frontal Lobe)اورلمبی یادداشت والاحصہ (Hippocampus) کہلاتاہے ۔ سب سے اہمیت کا حامل یہ حصہ 60 سے70برس کی عمر میں سکڑنا شروع ہوجاتاہے۔ یادداشت اور جذبات کا کنٹرول کافی حد تک یہیں تشکیل پاتا ہے۔

    یہ حصہ سب سے آخر میں مکمل ہوتاہے ،35برس کی عمر تک اس کی افزائش ہوتی رہتی ہے۔ یعنی دماغ 35برس کی عمر میں مکمل ہوتا ہے۔مگر اس وقت تک جسم کے دوسرے حصے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک نظام کے تحت زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔’’افوہ، یہ بات تو میرے دماغ سے نکل ہی گئی‘‘۔ یہ کیفیت عموی طور پر عمر کے دوسرے حصے میں پیدا ہوتی ہے ۔تاہم اگر کوئی فرد 20سال کی عمر میں باتیں بھولنا شروع ہو جائے ، تو اس پر غور ضرور کیجئے ۔کسی حد تک یہ جوانوں اور عمر رسیدہ افراد میں معمول کے مطابق بھی ہو سکتی ہے۔

    لیکن اس کیفیت کابار بار ہونا قابل غور ہے۔ عمر رسیدہ افراد الزائمر کی وجہ سے بھی باتیں بھول سکتے ہیں،

    جبکہ ڈی منشیا اس کی یادداشت کے خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انسان میں چار قسم کی خرابیاں جنم لے سکتی ہیں۔

    (۱) کسی نئی چیز کو سیکھنے یا سمجھنے میں دقت ۔

    (۲) دیر سے یاد ہونا۔

    (۳) بیک وقت دو کام کرنے میں دقت ،اور

    (۴) پلاننگ یا اس پر عملدرآمد کرنے اور نمبروں یا ناموں کو یاد کرنے میں دقت کا سامنا ۔

    یادداشت کا یہ حصہ بسا اوقات 20سال کے بعد متاثر ہوسکتا ہے۔ جوان نمبروں اور ناموں یااپنے معمولات کو یاد کرنے میں مشکل محسوس کر سکتے ہیں ۔ کچھ لو گ عمر کے مختلف حصوں میں اپنے اہم کام بھول جاتے ہیں، اور انہیں کوئی بھی بات یاد کرانے کے لیے اشاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق 30فیصد بوڑھے افراد جدوجہد کے ذریعے اپنی یادداشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق 70برس سے زائد عمر کے بوڑھے بھی کوشش کریں تو ان میں سے تقریباً 20فیصد کی یادداشت 20برس کے جوانوں جیسی ہو سکتی ہے۔

    دیکھنا یہ ہے کہ 33سال کے بعد انسان کے دماغ میں کون کون سی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔عمر کے ساتھ ساتھ دماغ کا فرنٹر لوب (Frontal Lobe)اورلمبی یادداشت والاحصہ (Hippocampus)سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل 60اور 70کی دہائی میں تیز تر ہو جاتا ہے۔جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ یادداشت اور نئی چیزوں کو یاد کرنے کی صلاحیت اس حصے میں زیادہ ہوتی ہے۔

    ایک دماغی خلل میں خون کی نالیاں کمزور پڑنے سے اعصابی نظام کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔جس سے دماغ کا دوسرے حصوں سے رابطے کا نظام کمزور پڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔ سفید مادہ:دماغ میں ایک مخصوص قسم کا سفید مادہ موجود ہو تا ہے جنہیں مائی لیٹڈ ڈسٹ فائبر یعنی مالئی لیٹڈ اعصابی خلیے کہا جاتا ہے یہ دراصل عمر کے ساتھ ساتھ سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں اس سے دماغ کا پورا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

    دماغ کا ٹرانسمیٹر: محققین نے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر سسٹم کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ یہ دراصل کیمیائی پیغام رساں سسٹم ہے ۔ دماغ میں پیغام رسانی کا کام کرنے والے ان کیمیکلز کی کمی امراض کا باعث بنتی ہے۔ ان کیمیکلز میں ڈوپامین ،سیروٹونین اورایسیٹائل کولین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ نورپائن فرین کی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے جس سے ڈپریشن میں اضافہ اور یادداشت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

    اب ہم دیکھتے ہیں کہ سائنسدانوں نے اس نظام کی بہتر ی کیلئے کیا اقدامات تجویز کیے ہیں۔ نیو یارک میں البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن میں اس پر کافی تحقیق ہوئی ہے۔ چوہوں پر تحقیق سے پتہ چلا کہ دماغ میں مخصوص قسم کے سٹیم سیلز کو کنٹرول کر کے بڑھاپے کوکچھ عرصے کے لیے ٹالا جاسکتا ہے۔مالیکیول فارما کالوجی کے ڈاکٹر ڈونگ شونگ شین شائے کے مطابق کے ہائپس اعصابی سٹیم سیل وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔

    مگر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ان کے ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ہم اس سٹیم سیل یا مالیکیول جو کچھ پیدا کرتے ہیں اس کی مقدار کو کنٹرول کر کے بڑھاپے کو ٹال سکتے ہیں مثال کے طورپر انجکشن کے ذریعے سے چوہوں میں ہائیپو سٹیم سیل داخل کیے گئے۔ بوڑھوں اور جوانی کی عمر کے چوہوں پر اس کے بہت مثبت اثرات دیکھنے میں آئے اس سے ان کے بڑھاپے کا عمل کچھ دیر کے لیے ملتوی ہو گیا۔

    سائنسدانوں نے اسے جوانی کو زیادہ عرصہ قائم رکھنے کے لیے پہلا قدم قرار دیا۔ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جن کی یادداشت یا دماغی صحت 80سال کے بوڑھوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ انہیں ’’سپر ایجر ‘‘کہا جاتا ہے۔ ان کے دماغ کے سکڑنے کی رفتار عام آدمی کی بہ نسبت کہیں زیادہ سست ہوتی ہے۔ اوسط عمر میں مٹاپے پر قابو پاکر بھی دماغی انحطاط کو ٹالا جا سکتا ہے۔

    دماغی صحت کے لیے سائنسدانوں نے روزانہ ورزش ، دماغی سرگرمیاں انجام دینا، سماجی طور پر متحرک رہنا،دبائو پر قابو پانا، اچھی خوراک کھانا اور اچھی نیند لیناتجویز کی ہیں۔50سال کی عمر میںروزانہ 45منٹ ورزش بہت مفید ہے۔خوراک میں اومیگا۔3 تھری اوراومیگا ۔6 دماغی صحت کے لئے مفید ہیں۔ ٭٭٭
    2gvsho3 - سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثم

    2gvsho3 - سب سے پہلے بڑھاپا دماغ پر آتا ہے! تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •