Results 1 to 2 of 2

Thread: اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,293
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    candel اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک

    اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک
    23143 45636782 - اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک
    عبدالحفیظ ظفر
    ۔1981ء میں جب یہ خاکسار پہلی بار پاک ٹی ہائوس داخل ہوا تو سامنے صوفے پر ایک دبلے پتلے ضعیف العمر شخص کو دیکھا جو اپنے مداحین اور احباب کے درمیان بیٹھے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگا رہے تھے۔ شلوار قمیص اور سر پر ٹوپی پہنے یہ صاحب پہلی ہی نظرمیں من کو بھا گئے۔ پوچھنے پر علم ہوا کہ یہ اسرار زیدی ہیں جو نہ صرف ایک منجھے ہوئے شاعر ہیں بلکہ نقاد اور ادبی کالم نگار بھی ہیں۔ زیدی صاحب نہ صرف اپنے ہم عصروں میں مقبول تھے بلکہ نوجوانوں کا ایک بڑا حلقہ بھی ان سے متاثر تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے مطابق ٹی ہائوس ہی ان کا مستقل ٹھکانہ تھا کیونکہ ان کی رہائش بھی ٹی ہائوس کے قریب ہی تھی۔ اسرار زیدی ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے جیسے دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ مجال ہے کہ سگریٹ ان کے ہاتھ سے الگ ہوا ہو۔ ان کے بارے میں اتنا علم ہوا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب پتوکی میں رہائش پذیر ہیں لیکن کچھ منچلوں کے مطابق ان کا جنم ٹی ہائوس میں ہی ہوا تھا۔ وہ ٹی ہائوس کی شناخت بن چکے تھے۔ میں نے ان کو بہت شفیق پایا۔ کبھی کبھی خواجہ زکریا‘ قتیل شفائی اور احمد راہی جیسی معروف شخصیات کو بھی ان کے گرد بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ حلقہ ارباب ذوق کے سالانہ انتخابات کے موقع پر وہ بہت متحرک ہو جاتے تھے اور ہر امیدوار کی یہ بھرپور سعی ہوتی تھی کہ وہ اسرار زیدی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اکثر ان کا حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہو جاتا تھا۔ زیدی صاحب کا تکیہ کلام ’’لکھ دیا ہے‘‘ بہت مشہور ہوا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ مرحوم کراچی کے ایک ہفت روزہ میں باقاعدگی سے ادبی کالم لکھا کرتے تھے۔ وہ سالہا سال یہ کالم لکھتے رہے۔ اگر ان کے پاس بیٹھا ہوا کوئی شخص ان سے کسی واقعے یا تقریب کا ذکر کرتا تو زیدی صاحب اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بڑی بے نیازی سے کہتے ’’لکھ دیا ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس واقعے یا تقریب کے حوالے سے انہوں نے اپنے ادبی کالم میں لکھ دیا ہے لہٰذا کسی کو اس بارے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسرار زیدی ایک دلربا شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بڑی حساس طبیعت پائی تھی۔ قیوم نظر کے جواں سال بیٹے سلمان بٹ ایک حادثے میں انتقال کر گئے تو زیدی صاحب مُجسمہِ غم بن گئے۔ اسی طرح نوجوان افسانہ نگار احمد شبیر کی ناگہانی موت کا سن کر بھی وہ دکھ کے سمندر میں ڈوب گئے۔ ٹی ہائوس کے تمام ملازمین بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ اسرار زیدی کی شاعری بڑی متاثر کن تھی۔ وہ روایت اور جدت کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ وہ اپنی شاعری میں جمالیاتی طرز احساس کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ سماجی اقدار کی پامالی پر انہیں بہت قلق تھا اور اس کا جا بجا اظہار ان کے اشعار میں بھی ملتا ہے۔ ان کی شاعری میں عصری کرب کا جس طرح اظہار ملتا ہے وہ قاری کو بہت متاثر کرتا ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جو جدید طرز احساس کو بھی ساتھ لے کر چلتے تھے اور روایت کا دامن بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ اپنے ترقی پسند افکار کا اظہار بھی شعریت کے دائرے میں رہ کر کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شعری طرز احساس سے بخوبی آشنا تھے۔ زیدی صاحب اکثر کہا کرتے ’’یہ معاشرہ جو بڑی تیزی سے بے حسی کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے‘ ایک روز جاگے گا۔ احساس کی آگ کو کوئی کب تک روکے گا۔ احساس کی آگ ایک دن بے حسی کے پتوں کو جلا ڈالے گی۔‘‘ وہ اپنی شاعری میں کبھی کبھی تلمیح سے بھی کام لیتے تھے۔ ان کا ادب اور تاریخ کا وسیع مطالعہ تھا۔ ان کے شعری مجموعے ’’خط غبار‘‘ کو خاصی شہرت ملی۔ ذیل میں ان کی غزلوں کے کچھ اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ 1- شعبدے ہی شعبدے پھر تالیاں ہی تالیاں ہم ہی ناداں تھے کھلونوں سے بہل کر رہ گئے 2- ترے التفات کی بات تھی تری بے رخی کے گلے نہ تھے تجھے شاید اس کی خبر تو ہو کہ ہمارے ہونٹ سلے نہ تھے 3- دل پر سے ترے غم کا ابھی ابر چھٹا ہے چمکا ہے تری یاد کا مہتاب غزل میں 4- کھڑا ہوں دھوپ میں سائے کی جستجو بھی نہیں یہ کیا ستم ہے کہ اب تری آرزو بھی نہیں 5- سامنے آ کے جو وہ ہاتھ ملائے تو سہی مجھ کو ہول آتا ہے اس شخص کی مسکینی سے 6- میں نے خود اپنے لہو سے یہ چمن سینچا تھا مجھ سے اب پوچھ رہے ہو کہ خطا کس کی تھی 7- مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے گھر جل رہا تھا لوگ تماشائیوں میں تھے 8- محبتوں کے قرینے بدل گئے آخر میں اس کے در پہ جو پہنچا تو پاسباں بھی نہ تھا 2006ء میں اسرار زیدی 95 برس کی عمر میں اس جہانِ رنگ و بو سے رخصت ہو گئے۔ جب کبھی ٹی ہائوس جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرار زیدی یقینا یہیں کہیں بیٹھے ہیں اور سگریٹ کا ایک لمبا کش لے کر کہہ رہے ہیں ’’لکھ دیا ہے‘‘۔ ٭…٭…٭

    2gvsho3 - اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,293
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    Default Re: اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک

    2gvsho3 - اسرار زیدی دلربا شخصیت کے مالک

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •