کالی دیوار


کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یار
گونج رہی تھی سارے جگ میں جس کی جے جے کار

ملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثل
لیکن اس کی سج دھج سچ مچ دلداروں کی مثل

روشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئے
من کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائے

بالا بام چراغاں رستے، روپ بھرے بازار
جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے خوابوں کا سنسار

ایک سفید حویلی جس میں بہت بڑی سرکار
یہیں کریں سوداگر چھوٹی قوموں کا بیوپار

یہیں پہ جادو گر بیٹھا جب کہیں کی ڈور ہلائے
ہر بستی ناگاساکی، ہیروشیما بن جائے

اسی حویلی سے کچھ دور ہی اک کالی دیوار
لوگوں کی وہ بھیڑ لگی تھی، چلنا تھا دشوار

اس کالی دیوار پہ کندہ دیکھے ہزاروں نام
ان ناموں کے بیچ لکھا تھا "شہدائے وِتنام"

دُور دُور سے جمع ہوئے تھے طرح طرح کے لوگ
آنکھوں آنکھوں ویرانی تھی، چہروں چہروں سوگ

بیکل بہنیں، گھائل مائیں، کرلاتی بیوائیں
ساجن تم کس دیس سدھارے پوچھیں محبوبائیں

اپنے پیاروں دلداروں کا اوجھل مکھڑا ڈھونڈیں
اس کالی دیوار پہ ان کے نام کا ٹکڑا ڈھونڈیں

دلوں میں غم، پلکوں پر شبنم، ہاتھوں میں پھول اٹھائے
اس ناموں کے قبرستان کا بھید کوئی کیا پائے

نا تربت نہ کتبہ کوئی نا ہڈی نا ماس
پھر بھی پاگل نیناں کو تھی پیا ملن کی آس

کہیں کہیں دیوار پہ چسپاں ایک سفید گلاب
جیسے ماں کا کوئی آنسو، جیسے باپ کا خواب

سبھی کے دل میں کانٹا بن کر کھٹکے ایک سوال
کس کارن مٹی میں ملائے ہیروں جیسے لال

پیلے پیلے دیس پہ ہم نے کیا کیا اندھیارے برسائے
اس کے جیالے تو کٹ مر کر روشنیاں لے آئے

لیکن اتنے چاند گنوا کر ہم نے بھلا کیا پایا
ہم بد قسمت ایسے جن کو دھوپ ملی نہ چھایا

مُکھ موتی دے کر حاصل کی یہ کالی دیوار
یہ کالی دیوار جو ہے بس اک خالی دیوار

یہ کالی دیوار جو ہے ناموں کا قبرستان
واشنگٹن کے شہر میں دفن ہیں کس کس کے ارمان
٭٭٭