Results 1 to 2 of 2

Thread: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,240
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    New5555 اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی


    اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
    میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی
    کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے
    آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں+تازگی
    بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
    میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
    وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
    اگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی
    میٹھے تھے جن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
    ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گر گئی
    بازار بند راستے سنسان بے چراغ
    وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں +کوئی
    گلیوں میں+ اب تو شام سے پھرتے ہیں+ پہرہ دار
    ہے کوئی کوئی شمع سو وہ بھی بجھی بجھی
    اے روشنئ دیدہ و دل اب نظر بھی آ
    دنیا ترے فراق میں +اندھیر ہو گئی
    القصّہ جیب چاک ہی کرنی پڑی ہمیں
    گو ابتدائے غم میں +بڑی احتیاط کی
    اب جی میں ہے کہ سرکشی پتھر سے پھوڑیے
    ممکن ہے قلبِ سنگ سے نکلے کوئی پری
    بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کوئی دن
    تصویر کھینچیے کسی موجِ خیال کی
    ناصرؔ بہت سی خواہشیں دل میں ہیں بے قرار
    لیکن کہاں سے لاوں وہ بے فکر زندگی




    2gvsho3 - اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,240
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    Default Re: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

    2gvsho3 - اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •