Results 1 to 2 of 2

Thread: آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا


    آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے
    اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    یہ پھُول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
    تم نے مر ا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

    یاروں کی مُحبت کا یقیں کر لیا میں نے
    پھُولوں میں چھُپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا

    محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں
    جو چھوڑ دیا پھر اُسے مڑ کر نہیں دیکھا

    خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں
    وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اُس نے مجھے چھُو کر نہیں دیکھا
    ***


    2gvsho3 - آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

    2gvsho3 - آنکھوں میں رہا، دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •