عاشق ہوئے ہیں آپ بھی، ایک اور شخص پر
آخر، ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد، اے فلک !دلِ حسرت پرست کی
ہاں ، کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں ، مہ رخوں کے لیے ، ہم مصوری
تقریب، کچھ تو، بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط، ہے کس روسیاہ کو؟
اک گونہ بیخودی، مجھے دن رات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے ، غالبؔ ! فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے ، جو بات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر، پائے خُم پہ کھینچئے ہنگامِ بیخودی
رو، سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی، بحسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف، ہمیشہ مستِ مے ذات چاہیے