Results 1 to 2 of 2

Thread: تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے


    تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے
    غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے

    جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں
    احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے

    تشبیہہ وا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا
    پیکر تراش شعر کے فنکار مر گئے

    ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی
    کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے

    تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی
    شَاید غزل کے سَارے گناہ گار مر گئے

    شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے
    اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مر گئے

    اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب
    اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مر گئے

    مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا
    گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے

    اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا
    مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے

    تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار
    گھوڑوں پہ دوڑے آئے تھے سردار مر گئے

    ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا
    تہمد پکڑ کے صاحبِ دستار مر گئے

    یا رب طلسمِ ہو ش رہا ہے مُشَاعرہ
    جن کو نہیں بُلایا، وہ غم خوار مر گئے
    ***


    2gvsho3 - تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے

    2gvsho3 - تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •