Results 1 to 2 of 2

Thread: دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے


    دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے
    زندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیئے
    میری نوائیں الگ، میری دعائیں الگ
    میرے لیے آشیاں سب سے جدا چاہیے
    نرم ہے برگِ سمن، گرم ہے میرا سخن
    میری غزل کے لیے ظرف نیا چاہیے
    سر نہ کھپا اے جرس، مجھ کو مرا دل ہے بس
    فرصتِ یک دو نفس مثلِ صبا چاہیے
    باغ ترا باغباں، تو ہے عبث بدگماں
    مجھ کو تو اے مہرباں ، تھوڑی سی جا چاہیئے
    خوب ہیں گل پھول بھی تیرے چمن میں مگر
    صحن ِ چمن میں کوئی نغمہ سرا چاہیے
    ہے یہی عینِ وفا دل نہ کسی کا دکھا
    اپنے بھلے کے لیے سب کا بھلا چاہیئے
    بیٹھے ہو کیوں ہار کے سائے میں دیوار کے
    شاعرو، صورت گرو کچھ تو کیا چاہیے
    مانو مری کاظمی تم ہو بھلے آدمی
    پھر وہی آوارگی کچھ تو حیا چاہیے



    2gvsho3 - دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے

    2gvsho3 - دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیئے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •