Results 1 to 2 of 2

Thread: قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

    قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد
    226 46749394 - قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

    لیڈی جسٹس کا مجسمہ انصاف کی علامت ہے۔ علامتی سطح پریہ روم اور یونان، دونوں تہذیبوں کی انصاف کی نمائندہ دیویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بائیں ہاتھ میں کھڑے رخ کی دو دھاری تلوار ہے، جس کی نوک نیچے زمین کی طرف ہے جبکہ دائیں ہاتھ میں ایک ترازو ہے جس کے دونوں پلڑے برابر ہیں، یہ رومیوں اور یونانیوں کی انصاف کی دو دیویوں کا مشترکہ مجسمہ ہے اس عہد میں تلوار کو دلیل (Reason) اور انصاف (Justice) کی قوت قرار دیا جاتا تھاجبکہ ترازو کے دونوں پلڑوں کا برابر ہونا برابری کی سطح پر دونوں پارٹیوں کی بات سننے کو ظاہر کرتا تھا
    آج بھی جہاں انصاف کی بات ہو وہاں ترازو کا ذکر ضرور ہوتا ہے، اور جہاں انصاف کے حصول کاذکر ہو وہاں تلوار کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر یہ عجیب بات ہے کہ آنے والے وقتوں نے تلوار اور ترازو کے معنی تبدیل کر دئیے۔ پندرہویں صدی تک یہ دو علامتیں تلوار اور ترازو ہی لیڈی جسٹس کے ہاتھوں میں علامتی سطح پر موجود رہے مگر پندرہویں صدی کے بعد لیڈی جسٹس کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی، لوگ کہتے ہیں منصف کو اندھا ہونا چا ہئے، اسے خود کچھ نظر نہیں آنا چاہئے،اسے اپنی ذات کو منہا کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرنا چاہئیں۔ دنیا بھر میں لیڈی جسٹس کے کئی مجسمے ہیں۔

    کہیں وہ تلوار آسمان کی طرف بلند کرتی نظر آتی ہے، کہیں وہ ترازو والا ہاتھ بلند کئے ہوئے ہے، کہیں ترازو کا ایک پلڑا جھکا ہوا ہے، کہیں وہ بیٹھی ہوئی ہے اور کہیں مختلف زاویوں سے ایستادہ ہے، کہیں دونوں بازو قائمۃ الزاویہ جسم سے باہر نکلے ہوئے ہیں، جسم کا زاویہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، تلوار اور ترازو انصاف کی علامت بن کر اُبھرتے ہیں مگر آنکھوں پر سیاہ پٹی کا معاملہ متنازعہ ہی ہے۔ قانون کی یوں تو متفقہ طور پر کوئی تعریف نہیں کی جا سکتی تاہم ایک بڑی سطح پر قانون کو ضابطے کا ایک رہنما نظام قرار دیا جا سکتا ہے،

    جس کا اطلاق سماجی اداروں کے توسط سے ہوتا ہے تاکہ لوگوں کے رویوں اورردعمل کو منظم کیا جا سکے۔ حکومت کرنے والے اورمحکوم، دونوں ہی انسان ہوتے ہیں۔ قانون کو قانون ساز اداروں کے توسط سے بنایا جاتا ہے۔احکامات اور ضابطے کے ذریعے یا جج صاحبان اپنے فیصلوں کے توسط سے اس کو تشکیل دیتے ہیں۔ قانون کی عدالتوں میں دو بڑی اقسام ہیں ایک فوجداری اور دوسری دیوانی۔فوجداری قانون کو سماجی ضابطے کے لئے زہر قاتل سمجھا جاتا ہے جبکہ دیوانی قانون سماجی ضابطے کو التواء کے ہتھکنڈوں سے بستر مرگ تک پہنچاتا ہے۔ اداروں کو چلانے کے لئے انتظامی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے جسے ادارے کے افراد خود یااوپر کی سطح پر کوئی اور ادارہ ان کے لئے بناتا ہے۔ ان قوانین و ضوابط کے اطلاق اور لاگو کرنے کے لئے حکومتی کارندے جنہیں بیوروکریٹ کہا جاتا ہے، مددگار و معاون ہوتے ہیں جبکہ ان کی مدد کے لئے پولیس اور فوج دونوں ادارے منتظر رہتے ہیں۔

    اناطول فرانس نے 1894ء میں لکھا تھا ’’اپنی بڑی اور برابر کی سطح پر قانون امیر اور غریب دونوں کو پل کے نیچے سونے، گلیوں میں بھیک مانگنے اور روٹی کا ٹکڑا چرانے سے منع کرتا ہے۔‘‘ یونانی مفکر ارسطو نے 350 قبل مسیح میں کہہ دیا تھا کہ کسی شخص کی حکمرانی سے قانون کی حکمرانی بہر طوربہتر ہوتی ہے۔ Cicero نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا تھا’’جتنے زیادہ قوانین ہوتے ہیں، انصاف اتنا ہی کم‘‘ ہوتا ہے۔

    ایک صنعتی جمہوری ملک میں قانون بنانے والے بنیادی اداروں میں عدالتیں، پارلیمان، قانون نافذ کرنے والے ادارے جیسا کہ پولیس، فوج، بیوروکریسی، قانون کے پیشہ سے وابستہ لوگ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل ہیں۔ لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لئے آج قانون کے پیشے سے وابستہ لوگ انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کا واحد ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں اس لئے آج عدالتیں اپنے پھیلاؤ اور انصاف فراہم کرنے کے دائرہ کار میں اپنے مقاصد اور خدمات میں بہت وسیع اور لازم ہو گئی ہیں ہر شخص ان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے۔

    بیوروکریسی کا لفظ فرانسیسی لفظ Bureau سے ہے جس کے معنی آفس یا دفتر کے ہیں جبکہ دوسرا لفظ قدیم یونانی Kratos سے ماخوذ ہے جس کے معنی پاور (Power) کے ہیں۔بیوروکریسی صرف ریاست کے اداروں میں ہی نہیں ہوتی یہ بڑے پرائیویٹ اداروں میں بھی اوپر کی سطح پر موجود رہتی ہے ۔ہیگل نے اپنی کتاب Philosophy of Right میں ملکی انتظامیہ میں خصوصی مہارت رکھنے والے بیوروکریٹس کی اہمیت اور کردار کو سراہا ہے ۔کارل مارکس نے ہیگل کی اس تھیوری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بیوروکریٹس کی موجودگی پر سخت اعتراض اُٹھائے ہیں۔ کارل مارکس لکھتا ہے ’’کارپوریشن سول سوسائٹی کی ایک کوشش ہوتی ہے کہ وہ بذاتِ خود ریاست بن جائے‘‘ لیکن بیوروکریسی بذاتِ خود ایک ریاست ہوتی ہے، جس نے سول سوسائٹی میں اپنے قدم جما لئے ہوتے ہیں۔ہمارا بیوروکریٹ کسی بھی تحریری ضابطے کو موم کی ناک سمجھتا ہے،

    جس طرف چاہے موڑ لیتا ہے اور جیسا چاہے مفہوم نکال کر اس کی صورت بنا لیتا ہے ۔ملک میں تعلیم اور تحقیق کو بڑھانے کے لئے حکومتیں ریسرچ سکالرز کی حوصلہ افزائی کی مختلف صورتیں نکالتی رہتی ہیں۔اس سلسلے میں کیس سٹڈی کے طور پر میں آپ کے سامنے حکومت پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کا ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں دئیے جانے والے الاؤنس کا ایک مراسلہ رکھنا چاہتا ہوں۔

    اس معاملے کا ستمبر 1986ء سے آغاز ہوا، یہاں یہ بتانا غیرمتعلقہ نہ ہو گا کہ پاکستان کی تاریخ میں قانون سازی، آرڈیننس، سرکلر جتنی تعداد میں عسکری حکمرانوں کے دور میں بیوروکریسی نے جاری ہوئے، جمہوری حکومتوں کے ادوار میں جاری ہونے والے ایسے قوانین و ضوابط کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ستمبر 1986ء اور بعدازاں جولائی 1988ء کو حکومت پنجاب نے فیڈرل گورنمنٹ کے احکامات کی روشنی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے ریسرچ سکالرز کو خصوصی الاؤنس دینے کا اعلان کیا۔ یہ الاؤنس 1988ء میں 1500/- روپے ماہوار تھا جو تنخواہ کے ساتھ دیا جا نا تھا۔

    پہلی تفریق اور امتیازی سلوک یہیں ہو گیا کہ یہ ڈاکٹریٹ الاؤنس صرف سرکاری ملازمین یعنی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان کو دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں اس سے پہلے حکومت ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے اسکالرشپ بھی دے چکی تھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسے پاکستانی نے ڈاکٹریٹ ڈگری حاصل کی ہے، جو کسی حکومتی ادارے میں یا کہیں سرکاری ملازمت نہیں کرتا، توکیا اس کا استحقاق نہیں ہے کہ وہ ڈاکٹریٹ الاؤنس سے فائدہ حاصل کر سکے۔

    پھر دوسری بات یہ تھی کہ آرٹس سائنس یا سوشل سائنس کے کسی بھی مضمون میں اگر کوئی ڈاکٹریٹ کرتا ہے تو اس کو یکساں طور پر 1500/- روپے ماہانہ ڈاکٹریٹ الاؤنس ملے گا حالانکہ سائنس اور آرٹس کی ڈاکٹریٹ، امتحان کا طریقہ کار، معیار، استعداد سب میں نمایاں فرق تھا۔ اس بات کو چودہ سال بعد محسوس کیا گیا، یہ ایک دوسرے عسکری حکمران کا دور تھا۔ اگست 2002ء میں سائنس کے مضامین میں ڈاکٹریٹ کرنے والوں کو آرٹس کے شعبہ کے ڈاکٹر صاحبان سے الگ کر کے سائنس اور ٹیکنالوجی الاؤنس کا اعلان کیا گیا ۔اس کے لئے سائنس کے 18 ڈسپلن کو نوٹیفکیشن کا حصہ بنا دیا گیا تاکہ ابہام نہ ہو۔ڈاکٹریٹ الاؤنس برائے سائنس مضامین کی رقم 1500/- روپے سے بڑھاکر 5000/- روپے ماہانہ کر دی گئی۔

    اور ساتھ یہ بھی وضاحت کر دی گئی کہ یہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس لینے والے سابقہ الاؤنس مبلغ 1500/- روپے ماہانہ کا اہل نہ رہے گا۔ مزید وضاحت کے لئے تین شرائط بھی عائد کر دی گئیں۔

    -1سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس صرف متعلقہ سائنس کے شعبہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری کے حامل افراد کو دیا جائے گا، جن کا بعد از ڈاکٹریٹ کم از کم تحقیق کا تجربہ 5 سال ہو چکا ہو گا۔

    -2تحقیقی مضامین کا معیار جانچنے کے لئے پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو اختیار دے دیا گیا۔

    -3 سائنس کے شعبہ سے وابستہ افراد جو انتظامی عہدوں پر تعینات ہوں گے اور وہ تحقیق میں فعال نہ ہوں گے، ان کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔ اس نوٹیفکیشن نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔نوٹیفکیشن میں یہ وضاحت بھی کی گئی تھی کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس صرف یونیورسٹی کے اساتذہ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق اداروں میں یا ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے شعبہ جات میں کام کرنے والے افراد کو ہی دیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن -9اگست2002ء کو جاری ہوا مگر اس کا اطلاق یکم جولائی 2001ء یعنی تیرہ ماہ پہلے سے کر دیا گیا، اس کے پیچھے کیا منطق تھی، متعلقہ فائل یا فیصلہ کرنے والے بیوروکریٹس ہی بتاسکتے ہیں۔اس نوٹیفکیشن کے جاری ہوتے ہی وہ ڈگری ہولڈر جو محروم رہ گئے تھے، انہوں نے کوششیں شروع کر دیں کہ کسی طرح اس نوٹیفکیشن میں تبدیلی لائی جائے۔

    پہلا نوٹیفکیشن گورنر پنجاب کی جانب سے منظوری حاصل کرنے کے بعد جاری کیا گیا دوسرا نوٹیفکیشن سیکرٹری فنانس نے مجاز اتھارٹی سے اجازت کے بعد یکم نومبر 2003ء یعنی کم و بیش 15ماہ بعد جاری کیا اس تبدیل شدہ نوٹیفکیشن میں دواہم فیصلے کئے گئے۔

    -1سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس سوشل سائنس میں ڈاکٹریٹ کرنے والوں کو بھی دیا جائے گا۔

    -2گزشتہ نوٹیفکیشن میں عائد تینوں شرائط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ تینوں شرائط ختم نہ کی جاتیں تو مسائل بے حد پیچیدہ ہو جاتے، ان شرائط کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ ’’اچھا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس حاصل کرکے دکھائیں‘‘۔کچھ لوگ تو 5سال کے تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے فارغ ہو گئے، کچھ اپنی تحقیق کا Tangible Proof مہیا نہ کر پائے کہ جس کے معیار کا فیصلہ پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بیٹھے عالموں نے کرنا تھا اور ایک تعداد ان لوگوں کی تھی جو سائنسی اداروں میں ہی انتظامی عہدوں پر اختیارات کے مزے لوٹ رہے تھے لہٰذا ان کو بھی اس سے محروم رکھا گیا۔

    ایسی شرائط عائد کرنے والے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی سوچ فکر اور فیصلے کی استعداد کا نفسیاتی تجزیہ کیا جانا بہت سے اہم نقاط ہمارے سامنے لاسکتا ہے۔اس تبدیل شدہ مراسلے میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی کہ سوشل سائنسز کے ڈاکٹر صاحبان کو اس نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کی تاریخ سے یہ الاؤنس حاصل ہو سکے گا حالانکہ پہلے نوٹیفکیشن کی جاری ہونے والی تاریخ سے تیرہ ماہ قبل کی تاریخ شامل کی گئی تھی۔سوشل سائنسز والے اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے متعلق اداروں میں کام کرنے والے با اثر لوگ تھے، انہوں نے پندرہ ماہ میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس حاصل کر لیا اور بیوروکریسی کی عائد کردہ شرائط کو ختم کرا دیا۔ کالجزکے اساتذہ غیر فعال اور کمزور تھے ۔

    ان کی رسائی بیوروکریسی اور حکومتی ایوانوں میں کم تھی لہٰذا ان کو یہ فائدہ حاصل کرنے میں 6 سال لگ گئے۔ 19مئی 2008ء کو تیسری مرتبہ نوٹیفکیشن میں تبدیلی کی گئی اور لکھا گیا کہ اب نیچرل سائنسز، سوشل سائنسز ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، یونیورسٹی اساتذہ کے علاوہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کالجز کے اساتذہ بھی حاصل کرنے کے اہل ہوں گے البتہ خودمختار اور نیم خودمختار سرکاری اداروں میں کہ جنہوں نے حکومت پنجاب کا بنیادی تنخواہ کا ضابطہ اپنایا ہوا ہے، اس کے ملازمین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس حاصل کرنے کے اہل نہ ہوں گے، اور ساتھ لکھا گیا کہ اس پالیسی کے تحت کالج کے اساتذہ کو -19 مئی 2008ء سے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس دیا جائے جو نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ تھی۔

    جنوری 2009ء میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کی رقم 5000/-رو پے سے بڑھا کر 10,000/- روپے ماہانہ کر دی گئی۔ اس اضافہ کا درمیانی وقفہ سات برس ہے۔ جو نوٹیفکیشن اگست2009ء میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کے حوالے سے جاری ہوا، اس میں تین طرح کے ڈاکٹریٹ کرنے والے لوگ اہل قرار پائے تھے۔

    -1یونیورسٹی میں پڑھانے والا اساتذہ۔

    -2سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اداروں میں کام کرنے والے ملازمین۔

    -3ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹس کے ملازمین۔

    یونیورسٹی اساتذہ میں پہلے نیچرل سائنسز، پھر سوشل سائنسز، پہلے یونیورسٹی اور پھر کالجز میں پڑھانے والے تمام اساتذہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کے اہل قرار پا گئے۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق اداروں میں کام کرنے والے وہ لوگ جو انتظامی عہدوں پر تھے یا جن کے پاس تحقیق کا Tangible Proof نہ تھا ،یا جنہیں 5 سال ڈاکٹریٹ کئے ہوئے نہ ہوئے تھے، یہ تمام شرائط تو پندرہ ماہ بعد ختم کرکے ان کو مستفید کر دیا گیا۔

    اب رہ گئے تیسرے گروپ کے لوگ، ان میں جن اداروں کو حکومتی سطح پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا مقام حاصل تھا، ان کے ملازمین کو تو شرائط ختم ہونے کے بعد الاؤنس ملنا شروع ہو گیا مگر وہ ادارے جن کو ریسرچ و ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قرار نہیں دیا گیا، انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے پنجاب سروس ٹربیونل اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ کئی ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعدعدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایات جاری کیں کہ کسی ادارے کو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن قرار دینے کے لئے کوئی پالیسی مقرر کی جائے۔

    اس حکم کی روشنی میں وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنے کئی اجلاس کے بعد درج ذیل معیار مقرر کیا جس کے لئے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے جنوری 2011 میں ایک اور نو ٹیفکیشن جاری کیا، اس کے مطابق۔

    -1وہ تمام ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن جو حکومت نے مختلف محکموں میں قائم کر رکھی ہیں، ان کے ملازم بدستور نوٹیفکیشن کے مطابق سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کے اہل رہیں گے۔اسی طرح سوشل سائنسز کے تمام صوبائی ملازمین کی اہلیت بھی برقرار رہے گی۔

    -2وہ دوسری آرگنائزیشن ، جنہیں حکومت نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن قرار نہیں دیا،

    ان کے ملازمین ابتدائی طور پر 5000/- روپے یعنی نصف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس حاصل کرسکیں گے تاہم ان کے کیسز 10,000/- روپے ماہانہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کے لئے زیر غور لائے جا سکتے ہیں اگر وہ خود کو ڈاکٹریٹ کے بعد تحقیق سے وابستہ رکھیں گے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے منظور کردہ ریسرچ جرنل میں تین سالوں کے اندر تین تحقیقی مضامین شائع کروائیں گے۔ ان مضامین کی کاپیاں مہیا کرنے کے بعد ان کو پورا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس یعنی 10,000/- روپے ماہانہ بمعہ گزشتہ نصف بقایاجات کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔

    -3پلاننگ اینڈ ایویلیویشن ڈائریکٹوریٹ اور ایل اینڈ ڈی ڈی ڈیپارٹمنٹ کا Extention Wing ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے منظور شدہ ریسرچ جرنل کی مختلف شعبہ جات میں تعداد بہت کم ہے، کئی شعبوں میں ایک ریسرچ جرنل بھی منظور شدہ نہیں ہے۔

    جہاں موجود ہے وہاں ایک ریسرچ پیپر کو شائع ہونے میں ایک سے دو سال عموماً درکار ہوتے ہیں کیا تین سالوں میں تین ریسرچ پیپر شائع ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ الگ سے موجود ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کے لئے جو بنیادی معیار مقرر ہے، کیا وہ اس ملک کے سبھی لوگوں کے لئے یکساں نہیں ہونا چاہئے اگر کوئی ڈاکٹر کسی کالج یا یونیورسٹی میں پڑھا نہیں رہا یا کسی تحقیقی وسائنسی ادارے میں کام نہیں کر رہا تو کیا اس کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اس کے لئے محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

    اور یہ جو ٹکڑوں میں قانون سازی ہو رہی ہے، کیایہ قانون سازی کرنے والوں کی نااہلیت کی مرہونِ منت نہیں ہے کہ جس کا آغاز سیکشن آفیسر سے ہوتا ہے اور جس کا آخری زینہ سیکرٹری کا عہدہ ہے۔اس سلسلے کا اب تک کا فنانس ڈیپارٹمنٹ کا آخری سرکلر جون 2012ء کا ہے۔ اس کا عنوان ’’گرانٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس‘‘ نہیں ہے، بلکہ اس کا عنوان وہی ہے جو ستمبر1986ء میں فنانس ڈیپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے سرکلر کا عنوان ہے یعنی ’’گرانٹ آف پی ایچ ڈی الاؤنس/ڈی ایس سی الاؤنس‘‘۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق مجاز اتھارٹی نے گزشتہ 26 برسوں میں وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے تمام نوٹیفکیشن بہ عنوان بالا منسوخ کر دئیے ہیں، یکم جولائی 2012ء سے ہر شعبہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری رکھنے والوں کو 10,000/- روپے ماہانہ بلا امتیازوتفریق ڈاکٹریٹ الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس کو بھی ختم کر دیا گیا ہے اب انہیں بھی PhD الاؤنس کی مد میں 10,000/- روپے ماہانہ ہی ملے گا اور یہ تمام شعبہ جات اور تمام مضامین کے لئے یکساں ہو گا۔26 برسوں پر محیط یہ کھیل ختم ہو گیا۔ اس کھیل کے کردار کیا ثابت کرنا چاہتے تھے؟ ان 26 برسوں میں مختلف شعبہ جات کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل افراد کا کتنا وقت ضائع ہوا، کتنی توانائیاں خرچ ہوئیں اور وہ کس ذہنی انتشار اور پریشانی سے گزرے، کیا ہماری بیوروکریسی کبھی اس زاویئے سے سوچنے کی زحمت گوارا کرے گی۔ کیا قانون سازی وقت، توانائی اور ذہنی سکون برباد کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔
    2gvsho3 - قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

    2gvsho3 - قانون سازی میں بیوروکریسی کا کردار تحریر : ڈاکٹر عافر شہزاد

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •