Results 1 to 2 of 2

Thread: یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
    کوئی کہیں چھپ کے رونا چاہے تو رو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    یہاں بکھرنے کا غم، سمٹنے کی لذّتیں منکشف ہیں جس پر
    وہ ایک دھاگے میں سارے موتی پرو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    جسے ہواؤں کی سرکشی نے بچا لیا دھوپ کی نظر سے
    وہ ابرِ آوارہ، دامنِ دل بھگو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    یہ میں ہوں، تم ہو، وہ ایلچی ہے، غلام ہیں اور وہ راستہ ہے
    اب اس کہانی کا کوئی انجام ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    ترے لیے عشق جاگتا ہے، ترے لیے حسن جاگتا ہے
    سو اب تُو چاہے تو اپنی مرضی سے سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    یہاں ارادے کو جبر پر اختیار حاصل رہا تو اتنا
    کوئی کسی کا، جو ہونا چاہے، تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    نئی مسافت کے رتجگوں کا خمار کیسا چڑھا ہوا ہے
    سلیم کوثر! یہ نشّہ تم کو ڈبو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
    ٭٭٭



    2gvsho3 - یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

    2gvsho3 - یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •