Results 1 to 2 of 2

Thread: اپنی زمین کے لیے ایک نظم

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 اپنی زمین کے لیے ایک نظم



    اپنی زمین کے لیے ایک نظم


    خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں
    گئی رات کے سناٹے میں
    اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں
    گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں
    خواب کے رنگ ڈھنگ سے بڑھ کر
    کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب
    کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب
    کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم
    کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم
    خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے
    ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے
    تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !
    وہ خزاں زاد تھا
    اور بنتِ بہار
    اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات
    اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے
    وہ اماوس کی گھنی راتوں میں
    رت جگا کرتا رہا
    اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا
    جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے
    چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے
    سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں
    شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے
    خوشبو آزاد ہے
    جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے
    نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر
    یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے
    جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچا ہے





    2gvsho3 - اپنی زمین کے لیے ایک نظم

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: اپنی زمین کے لیے ایک نظم

    2gvsho3 - اپنی زمین کے لیے ایک نظم

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •