Results 1 to 2 of 2

Thread: خلیفہ عبدالحکیم

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel خلیفہ عبدالحکیم

    خلیفہ عبدالحکیم
    23184 25854123 - خلیفہ عبدالحکیم
    عبدالحفیظ ظفر
    یہ بات بالکل سچ ہے کہ بیسویں صدی میں برصغیر پاک و ہند میں مسلم مفکرین، شعرا اور ادیبوں نے علم و دانش کے ایسے موتی بکھیرے جن کی چمک سے ایک عالم فیض یاب ہوا۔ اہم ترین ناموں میں سے ایک نام ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا بھی ہے جو مفکر بھی تھے، فلسفی بھی اور شاعر بھی۔ 1896ء میں پیدا ہونے والے خلیفہ عبدالحکیم نے بہت کام کیا۔ انہوں نے 12 کتابیں تصنیف کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چار کتابوں کا انگریزی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے افکار کو جس طرح پیش کیا اس پر ان کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ اسی طرح انہوں نے مرزا غالب کی فکری وراثت کو بھی بڑے احسن طریقے سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے دلائل کے ساتھ اپنے افکار کو پیش کیا اور اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ ان کے منطقی دلائل کا جواب دینا ہر کسی کے بس میں نہیں تھا۔ چونکہ وہ بے حد پڑھے لکھے آدمی تھے اس لیے ان کے دلائل کا جواب بھی وہی دے سکتے ہیں جن کا علمی معیار کم از کم ان جتنا ہو۔ علامہ اقبالؒ کے بارے میں ہمارے کچھ دانش وروں، خاص طور پر ترقی پسند دانش وروں کا اصرار ہے کہ وہ عملیت پسند (Pragmatist)تھے۔ یعنی وہ معروضی صورت حال کے مطابق اپنی شاعری ڈھال لیتے تھے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر خودی اور مردِ مومن کا تصور معروضی صورت حال کے مطابق کیوں نہیں؟ یہ تو ان کے فلسفے کا حصہ تھا۔ البتہ اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ وہ جدید تحریکوں سے متاثر ضرور ہوتے تھے۔ پہلے وہ پین اسلام ازم ( Pan Islamism) کے زبردست حامی تھے۔ تھیوکریسی (ملائیت) کے بھی سخت مخالف تھے۔ مغربی جمہوریت سے بھی انہیں نفرت تھی۔ کمیونزم سے اس لیے اختلاف تھا کہ یہ انفرادی آزادی کو سلب کرتا ہے اور خدا کے تصور کی نفی کرتا ہے۔ لیکن کمیونزم کے ایک اہم حصے یعنی استحصال کے خاتمے کی حمایت کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن پھر انہوںنے ایک شعر میں کارل مارکس کے بارے میں کہا ، تری کتابوں میں اے حکیمِ معاش رکھا ہی کیا ہے آخر خطوطِ خمدار کی نمائش مزیز وکجدار کی نمائش وہ صوفیوں کی بھی بے حد تحسین کرتے ہیں۔ خلیفہ عبدالحکیم کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو وہ ہر قسم کے استحصال کے خلاف ہی نظر آتے ہیں۔وہ مولانا جلال الدین رومی کے بھی بہت بڑے مداح تھے۔ حافظ شیرازی کے ساتھ ان کی روحانی وابستگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1918ء میں خلیفہ عبدالحکیم کو عثمانیہ یونیورسٹی آف حیدر آباد دکن میں پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔ وہ 1949ء میں شعبہ فلسفہ کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ 1949ء سے 1959ء تک وہ ادارہِ ثقافت اسلامیہ کے بانی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور نے انہیں ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ وہ لیکچرز دینے کے لیے کئی بار امریکہ کے دورے پر گئے۔ مسلم فیملی لاز کمیشن، زکوٰۃ کمیشن اور اردو ادب کی ترقی کے لیے ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی حیات اور کارناموں پر کئی مضامین لکھے گئے۔ ان کے ادبی ہم عصروں میں علامہ اقبالؒ، پطرس بخاری، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، پروفیسر حمید احمد خان، پروفیسر یوسف حسنین خان، سید محمد عبداللہ اور سروجنی نائیڈو شامل ہیں۔ خلیفہ عبدالحکیم کی کتابوں میں مقالاتِ حکیم، داستانِ دانش، ثقافت، اقبال ریویو، فکرِ اقبال، کلامِ حکیم، حکمتِ رومی اوردیگر کئی کتب شامل ہیں۔ خلیفہ صاحب نے بڑی اثرانگیز نظمیں بھی لکھیں۔ انہوں نے جو تراکیب استعمال کیں اور زبان پر جس طرح اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا وہ حد درجہ قابلِ تحسین ہے۔ 30جون 1959ء کو علم کا یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ ٭٭٭

    2gvsho3 - خلیفہ عبدالحکیم

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: خلیفہ عبدالحکیم

    2gvsho3 - خلیفہ عبدالحکیم

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •