Results 1 to 2 of 2

Thread: کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی


    کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
    اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی
    شاید ہی کوئی آسکے اس موڑ سے آگے
    اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی
    وہ گل نہ رہے نکبتِ گُل خاک ملے گی
    یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی
    اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
    کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی
    خوددار ہوں کیوں آؤں درِ اہلِ کرم پر
    کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
    اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
    پیڑوں سے جہاں چھن کے ضیا تک نہیں آتی
    یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
    یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی
    کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر
    اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی
    چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گل میں
    مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
    یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا
    ٹوٹی ہوئی قبروں سےصدا تک نہیں آتی
    بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂ غم سے
    اس سرد گُپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی


    2gvsho3 - کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

    2gvsho3 - کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •