Results 1 to 2 of 2

Thread: جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں


    جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
    ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں

    کہتا ہے آفتاب ذرا دیکھنا کہ ہم
    ڈوبے تھے گہری رات میں، کالے ہوئے نہیں

    چلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لیے
    تم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں

    انمول وہ گہر ہیں جہاں کی نگاہ میں
    دریا کی جو تہوں سے نکالے ہوئے نہیں

    طے کی ہے ہم نے صورتِ مہتاب راہِ شب
    طولِ سفر سے پاؤں میں چھالے ہوئے نہیں

    ڈس لیں تو ان کے زہر کا آسان ہے اُتار
    یہ سانپ آستین کے پالے ہوئے نہیں

    تیشے کا کام ریشۂ گُل سے لیا شکیبؔ
    ہم سے پہاڑ کاٹنے والے ہوئے نہیں



    2gvsho3 - جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں

    2gvsho3 - جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •