Results 1 to 2 of 2

Thread: اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,289
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    New5555 اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا


    اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا
    کوئی نیند مثال نہیں بنتی، کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا

    اک عمر نمو کی خواہش میں، موسم کے جبر سہے تو کھلا
    ہر خوشبو عام نہیں ہوتی، ہر پھول گلاب نہیں ہوتا

    اس لمحۂ خیر و شر میں کہیں اک ساعت ایسی ہے جس میں
    ہر بات گناہ نہیں ہوتی، سب کارِ ثواب نہیں ہوتا

    مرے چار طرف آوازیں اور دیواریں پھیل گئیں لیکن
    کب تیری یاد نہیں آتی اور جی بے تاب نہیں ہوتا

    یہاں منظر سے پس منظر تک حیرانی ہی حیرانی ہے
    کبھی اصل کا بھید نہیں کھلتا، کبھی سچّا خواب نہیں ہوتا

    کبھی عشق کرو اور پھر دیکھو اس آگ میں جلتے رہنے سے
    کبھی دل پر آنچ نہیں آتی، کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا

    مری باتیں جیون سپنوں کی، مرے شعر امانت نسلوں کی
    میں شاہ کے گیت نہیں گاتا، مجھ سے آداب نہیں ہوتا
    ٭٭٭

    2gvsho3 - اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,289
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    Default Re: اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

    2gvsho3 - اس عالمِ حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •