Results 1 to 2 of 2

Thread: دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    New5555 دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں


    دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں
    جو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ نہیں

    خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں
    اب اس طرح تو مری روح میں سماؤ نہیں

    زمیں کے لوگ تو کیا ‘دو دلوں کی چاہت میں
    خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ نہیں

    تمہارا سَر نہیں طِفلانِ رہ گزر کے لئیے
    دیارِسنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ نہیں

    سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
    ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ نہیں

    ہمارے عہد میں یہ رسمِ عاشقی ٹھہری
    فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ نہیں

    وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے
    سخن کو پردہِ الفاظ میں چھپاؤ نہیں

    سپرد کر ہی دیا آتشِ ہنر کے تو پھر
    تمام خاک ہی ہو جاؤ کچھ بچاؤ نہیں



    2gvsho3 - دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں

    2gvsho3 - دُکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دُکھاؤ نہیں

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •