Results 1 to 2 of 2

Thread: من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس

    من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس
    ارشاد : حضور اس کی شکل بلکل آپ جیسی تھی ،،
    محمّد حسین: ہاں تو پھر ؟
    ارشاد : تو ،،، میں سمجھ نہیں پا رہا حضرت ! ڈاکو بھی وہی ،،، اور بچانے والا بھی وہی ،
    محمّد حسین: پھر کہتے ہو سر ناوا لکھ دو ،،، مہر بھی لگا دو ،،، رجسٹری بھی کر دو ،، اوہ بھائی مارنے والا وہی ہے جو زندگی دینے والا ہے ،،، وہی رحیم کریم ہے اور وہی قہار جبار ہے ،، وہی کشتی ہے اور وہی بھنور ہے ،، تم جیسے احمق ساری عمر کانٹے چننے میں بسر کرتے ہیں اور کانٹے کو ہی زندگی سمجھتے ہیں ،، گلاب تک پونچ ہی نہیں پاتے ،، کبھی گلاب بھی کانٹے سے جدا ہوا ہے ؟ کبھی رات بھی دن سے بچھڑی ہے ،،،، ؟

    ارشاد : سمجھ گیا سرکار سمجھ گیا ،،
    محمّد حسین: کچھ نہیں سمجھے اور نہ سمجھ سکھو گے ساری عمر ،،، تم ابھی رنگ تلاش کرتے ہو حالانکہ تجلّی کا کوئی رنگ نہیں ،،، سارے رنگوں کے مجموہے کا نام ہی تجلّی ہے


    2gvsho3 - من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    Default Re: من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس

    2gvsho3 - من چلے کا سودا از بابا جی اشفاق احمد صاحب سے اقتباس

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •