Results 1 to 2 of 2

Thread: پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,259
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    candel پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

    پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

    poet.jpg
    اردو شاعری میں فارسی کے توسط سے کئی اصناف اور موضوعات مستقل صورت اختیار کر گئے۔ ہجو، تحریف، رندی وسر مستی، زاہد سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ اِسی فارسی شاعری کی دین ہیں اور اردو شاعری میں طنز و مزاح کے ابتدائی نمونے انہی پیمانوں میں مقید ہو کر یکسانیت کا شکار تھے۔ اس عہد میں جو شاعر سب سے پہلے طنز و مزاح کی دستار اپنے سر پر سجاتا ہے، اس کا نام مرزا محمد جعفر تھا جسے دنیائے طنز و مزاح میں جعفر زٹلی کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ بلاشبہ اس کی شاعری میں ابتذال کی کثرت تھی لیکن اولیت کی وجہ سے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ مغلیہ حکومت کا زمانہ تھا جو بظاہر استحکام پذیر نظر آتا تھا لیکن اس کی تہذیبی اکائیاں اندر ہی اندر زوال کا شکار تھیں۔ طاؤس و رباب نے شمشیروسناں پر اوّلیت پا کر امرائے سلطنت کو راہِ اعتدال سے ہٹا دیا تھا جس کی وجہ سے معاشرے میں ابتری کا دور دورہ تھا۔ عوامی جذبات و احساسات کی گردنیں مار کر ان کی زبانیں کاٹی جا چکی تھیں۔ ایسے وقت میں جعفر زٹلی نے اپنے عہد کی ترجمانی کا فریضہ اس طرح انجام دیا کہ تین صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا نام آج بھی زندہ ہے۔ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اس شاعر نے جب بادشاہ کے خلاف ایک شعر کہا تو بادشاہِ وقت فرخ سیر نے بھڑک کر جعفر زٹلی کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ شعر درج ذیل ہے:
    سکّہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر
    پادشاہے تسمہ کش فرّخ سیر
    (ترجمہ: یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جَو کی ایک قسم اور مٹر پر ٹیکس لگایا ہے)
    بادشاہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے 1713ء میں بے باک شاعر جعفر زٹلی کو قتل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے جعفر زٹلی کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے :
    ''...یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس(جعفر زٹلی)کے مختصر سے معروف کلام کو چھوڑ کراس کا دیوان ہجویہ بلکہ فحش اور مغلظ طنزیہ شاعری سے بھرا پڑا ہے۔ عام لوگوں نے چونکہ جعفر زٹلی کا صرف نام سن رکھا ہے، اسے پڑھا نہیں اس لیے وہ اس کی ''گھناؤنی شاعری‘‘ سے واقف نہیں۔‘‘یہ وہ دور تھا جب ملک سیاسی افراتفری، اقتصادی بدحالی، سماجی بے اعتدالی اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو چکا تھا۔ غیر اقوام کی لوٹ مار نے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا تھا اور بیرونی یلغار معمول بن چکی تھی۔اس ابتر صورت حال میں ہر شخص کی حالت ایسی تھی کہ وہ روز مرتا اور روز جیتا تھا۔ روزگار نہ ہونے کے باعث بے عملی، ناامیدی و یاس اور شکست خوردگی نے ہر گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ خوف اور سراسیمگی کی فضا نے تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر زندگی سے فرار کی راہ دکھائی۔ یوں شاعری میں بھی فرار کی اس فضا نے قنوطیت کو جنم دے کر جذبات کی تیز لہروں کا رخ اپنے ماحول اور خیالی زاہد و واعظ سے چھیڑ چھاڑ کی جانب موڑ دیا۔ زاہد ومحتسب سے اس چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں شگفتگی اور رندی و بے باکی کے مضامین کھل کر سامنے آنے لگے جو فارسی شاعری میں اس سے پہلے موجود تھے۔ بقول ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا:
    ''...دکنی شاعروں کے کلام میں واعظ اور ناصح سے چھیڑ چھاڑ کے اشعار فارسی شعرا کے تتبع میں موجود ہیں۔یہ رو دکی، میر، مصحفی، آتش، غالب، حالی وغیرہ سے ہوتی ہوئی جدید شعرا یعنی فیض وغیرہ تک پہنچتی ہے۔ ایک اور رو جس میں ظرافت نے ہزل کا روپ اختیار کر لیا ہے اور ثقاہت کے تمام نقاب الٹ دیے ہیں، اس کے نمائندہ جعفر زٹلی، عطا، اٹل، زانی، افسق وغیرہ ہیں۔ تیسری رو ہجویات کی ہے۔ قدیم شاعری میں طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کے قابلِ ذکر نمونے ہجویات میں نظر آتے ہیں۔ سودا، نظیر، انشا وغیرہ کے ہاں کہیں تو ہجو معاشرے کی آلودگیوں کی پردہ دری کر کے بلند منصب پر فائز ہو گئی ہے اور کہیں ذاتیات میں الجھ کر اپنے مقام سے گر گئی ہے...‘‘
    جب برصغیر میں اسلام کی شمع روشن ہوئی تو اس وقت خطے میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں موجود تھیں جن پر ہندو راجے راج کرتے تھے۔ ذات پات کا نظام انسانوں کی کچھ نسلوں کو دوسروں سے بلند کیے ہوئے تھا اور کچھ لوگ جانوروں کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے۔ برہمن، ویش،کھشتری اور شودر کی تقسیم نے انسانیت کو غلام بنا رکھا تھا۔ ایسے میں اسلام نے انسانی مساوات و برابری کا علم بلند کر کے برصغیر کے لوگوں میں شعور پیدا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمانوں میں وہی پرانی ہندوانہ انسانی تفریق اپنی جڑیں پھیلانے لگی اور واضح طور پر دو طبقے وجود میں آ گئے۔ دینی احکام کی تربیت دینے والے ایک مخصوص طبقے نے مسلمانوں کو گناہ گار قرار دے کر دوسرے درجے کی مخلوق قرار دیا۔ اردو شاعری میں شعرا نے شروع سے ہی اس تنگ نظری پر احتجاج کرتے ہوئے شیخ و ناصح کو معتوب ٹھہرایا اور فارسی شاعری کے نقشِ قدم پر چلنے لگے۔واعظ مخالف اشعار سے ہر عہد کے شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ اس رسم کو کسی بھی طرح قابلِ رشک و تقلید قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    اوّلین طنزیہ و مزاحیہ اردو شاعری کا ایک اور پہلو محبوب و معشوق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہے۔ جب معشوق اپنے عاشق سے التفات نہیں برتتا تو عاشق اس کو جلی کٹی سنانے لگ جاتا ہے۔ایسے مواقع طنز و مزاح کو جنم دیتے ہیں اور محبوب اس چھیڑ چھاڑ سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ چڑ کر مزید بے پروائی کا مظاہرہ کرنے لگ جاتا ہے۔مثلاً:
    دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا
    جب دھم سے آ کہوں گا، صاحب سلام میرا
    ہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی
    اس شہر میں ہوا گر چندے قیام میرا
    (انشا)
    بے پردہ ہو نہ ظالم! ہو جائے گی قیامت
    اک تو یہ شکل تس پر یہ سن و سال تیرا
    (مصحفی)
    ترے وعدے پہ جئے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا
    کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
    جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو؟
    اِک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
    (غالب)
    شہر آشوب اور ہجویات میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں فریقِ مخالف پر حملوں اور معاصرانہ چشمکوں کی کارستانیاں نمایاں ہیں۔ شہروں کے لٹنے،عوام کی اخلاقی ابتری اور بے روزگاری و خستہ حالی پر لکھے گئے شہر آشوب جہاں اپنے اندر درد و الم کی لہریں سموئے ہوئے ہیں وہیں سے طنز و مزاح کے کچھ چشمے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔ میر و سودا اور انشا و مصحفی کے درمیان معاصرانہ چپقلش سے وجود میں آنے والی ہجویات کے نمونے طنز و مزاح کی غیر شعوری کوششوں کی مثالیں ہیں۔ اودھ پنچ کے عہدسے پہلے طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں نظیر اکبر آبادی (شیخ ولی محمد) کی آوازدوسروں سے الگ سنائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی طویل زندگی کے نشیب و فراز اور زمانے کی مختلف تصاویر کو شاعری میں نقش کر دیا۔ اپنے گرد و پیش کے مناظر کی منظر نگاری کو عوامی زبان اور لہجہ دے کر نظیر نے طنز و مزاح کے ایک جدا اور مانوس دبستان کی بنیاد رکھی جو صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہے۔ اپنے عہد کے مزاج اور انسانی نفسیات ومحسوسات کی نقش نگاری کے نمونے ان کی نظموں روٹی نامہ، آدمی نامہ، پیسہ نامہ، مفلسی، خوشامد وغیرہ میں ملتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار ان کی نظموں کے متعلق اپنی رائے یوں دیتے ہیں :
    ''نظیر نے اپنی جولانیِ طبع کا ثبوت مختلف النوع نظموں میں دیا ہے۔ یہ نظمیں نظیر کے سیاسی ماحول اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہیں۔...نظیر کی فطری زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی ہر رنگ اور ہر روپ میں کہیں کم کہیں زیادہ ظاہر ہو ہی جاتی ہے...‘‘
    طنز و مزاح کے اس دور کا ایک ممتاز نمائندہ غالب ہے۔ غالب کی طبیعت میں پائی جانے والی شگفتگی کا عکس ان کی شاعری میں نکتہ آرائی کی صورت میں ملتا ہے۔ غالب کی شگفتگی ان کی خانگی زندگی کے مصائب ومسائل کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اظہار طنز کی شکل میں ان کی غزلیات کے کئی مطلعوں میں موجود ہے:
    بے خودی بے سبب نہیں غالب
    کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
    000
    ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
    بے سبب ہوا غالب! دشمن آسماں اپنا
    000
    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
    2gvsho3 - پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,259
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5862
    Rep Power
    214774

    Default Re: پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

    2gvsho3 - پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل ۔۔۔۔۔ تحریر : محمد شعیب

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •