Results 1 to 2 of 2

Thread: اداکارہ رانی ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ ظفر

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,820
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5863
    Rep Power
    214774

    glass اداکارہ رانی ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ ظفر

    اداکارہ رانی ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ ظفر

    Rani.jpg
    لولی وڈ کی انجمن، تہذیب اور امراؤ جان ادا

    اداکارہ رانی نے اردو اور پنجابی زبان کی فلموں میں اتنی مہارت سے کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔

    پاکستانی فلمی صنعت کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ اس کے اکثر اداکاروں نے صرف ایک زبان میں بننے والی فلموں میں ہی کام نہیں کیا بلکہ دیگر زبانوں کی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

    اداکاروں میں سنتوش کمار، سدھیر، حبیب، محمد علی، ندیم، اعجاز، مصطفیٰ قریشی، غلام محی الدین، ہمایوں قریشی، افضال احمد، ادیب، آصف خان، آغا طالش، علاؤالدین، یوسف خان اور کئی دوسرے شامل ہیں حتیٰ کہ مشہور رومانوی اداکار وحید مراد نے بھی اردو فلموں کے بعد پنجابی فلموں میں کام کیا۔

    انہوں نے اپنی فلم مستانہ ماہی‘‘ بنائی اور پھر بعد میں بھی وہ کچھ پنجابی فلموں میں جلوہ گر ہوتے رہے۔ اداکار کمال نے پنجابی زبان میں فلمیں بنائیں اور خود مرکزی کردار ادا کیے۔ اقبال حسن، اسد بخاری اور الیاس کاشمیری پنجابی فلموں کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے لیکن انہوں نے کچھ اردو فلموں میں بھی کام کیا ۔ اسی طرح کیریکٹر ایکٹر ساقی اور کمال ایرانی بھی اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کرتے رہے۔

    جہاں تک اداکارائوں کا تعلق ہے تو ان میں صبیحہ خانم، نیر سلطانہ ، مسرت نذیر، بہار، دیبا، سنگیتا، کویتا، نغمہ، فردوس، بابرہ شریف، آسیہ، صائمہ، ثنائ، نیلی، سیما وہ اداکارائیں تھیں جنہوں نے دونوں زبانوں کی فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔

    اداکارہ شبنم نے بھی ایک پنجابی فلم میں کام کیا۔ زیبا اور شمیم آراء اپنے دور کی مقبول اداکارائیں تھیں لیکن انہوں نے کسی پنجابی فلم میں اداکاری نہیں کی۔ مزاحیہ اداکاروں میں منور ظریف، رنگیلا، ننھا اور خالد سلیم موٹا بھی دونوں زبانوں کی فلموں میں کام کرتے رہے۔ علی اعجاز نے بہت کم اردو فلموں میں کام کیا اور لہری نے اپنے آپ کو اردو فلموں تک ہی محدود رکھا۔

    ہماری ایک اور اداکارہ تھیں رانی۔ یہ وہ اداکارہ تھیں جنہوں نے اردو اور پنجابی زبان کی فلموں میں اتنی مہارت سے کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ ایک عمدہ اداکارہ بھی تھیں اور باکمال رقاصہ بھی۔

    انہوں نے کئی فلموں میں بہت اچھی اداکاری کے ساتھ ساتھ شاندار رقص بھی کئے جس سے ان کی شہرت میں بے حد اضافہ ہوا۔ 8 دسمبر 1946ء کو جنم لینے والی اداکارہ رانی کا اصل نام ناصرہ بیگم تھا۔

    ۔60ء کی دہائی میں انہیں اس وقت شہرت ملی جب ان کی جوڑی وحید مراد کے ساتھ بنی۔ اس کے بعد اداکار شاہد کے ساتھ بھی ان کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے سنہری دور کی اداکارہ تھیں۔

    انہوں نے وحید مراد اور شاہد کے علاوہ محمد علی، حبیب، اعجاز، یوسف خان ، سنتوش کمار اور غلام محی الدین کے ساتھ بھی کام کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ سلطان راہی اور علی اعجاز کے ساتھ بھی ہیروئین کے طور پر آتی رہیں۔

    انہوں نے مظہر شاہ کی پنجابی فلم محرم دل دا ‘‘ میں بھی کام کیا۔ رانی نے کچھ فلموں میں ویمپ کا کردار بھی ادا کیا اور اس حوالے سے ان کی فلم دل میرا دھڑکن تیری‘‘کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    پنجابی فلموں میں ان کا عروج اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے بھٹی پکچرز کی فلموں میں کام شروع کیا۔ ان کے ساتھ عنایت حسین بھٹی اور کیفی ہوتے تھے۔ ان فلموں میں چن مکھناں، سجن پیارا اور جند جان‘‘ قابل ذکر ہیں۔ جہاں تک اردو فلموں کا تعلق ہے تو انہوں نے حسن طارق کی فلموں میں سب سے اچھا کام کیا۔ ان فلموں میں انجمن، تہذیب اور امرائو جان ادا‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان تمام فلموں میں انہوں نے قابل تحسین اداکاری کے علاوہ دلفریب رقص بھی کئے اور اپنی فنی عظمت کی دھاک جمادی، ان فلموں کے بعد انہیں نمبر ون اداکارہ کہا جانے لگا۔

    اس سے بڑھ کر رانی کیلئے کیا خراج تحسین ہوگا کہ جب بھارتی اداکارہ ریکھا نے یہ کہا کہ رانی نے امرائو جان ادا‘‘ میں ان سے اچھا کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی اردو فلموں میں بہن بھائی، دلربا، ناگ منی، دیور بھابھی، ناگ اور ناگن ، میرا گھر میری جنت ، ہزار داستان ، سہیلی ، نذرانہ ، بہارو پھول برسائو ‘‘ اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں ۔ وحید مراد کے ساتھ ان کی فلمیں بہارو پھول برسائو ‘‘ اور ناگ منی ‘‘ سپر ہٹ ہوئیں ۔ ناگ منی ‘‘ میں انہوں نے بہت خوبصورت رقص کئے ، رانی کی اداکاری میں بے ساختگی اور فطری پن تھا ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں انہوں نے جس اعتماد کے ساتھ اداکاری کی ایسا بہت کم اداکارائوں میں دیکھا گیا ہے ، انہوں نے بعض فلموں میں مزاحیہ اداکاری بھی کی ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ رانی جنہیں ابتداء میں ناکام اداکارہ قرار دیا گیا تھا بعد میں وہ پاکستان کی صف اول کی ہیروئن بن گئیں ۔ ان کی صلاحیتوں کو حسن طارق نے پہچانا اور ان کے فن کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    رانی کی مشہور پنجابی فلموں میں چن مکھناں ، سجن پیارا ، جند جان ، جی او جٹا اُچا ناں پیار دا ، محرم دِل دا ، ٹیکسی ڈرائیور ، مکھڑا چن ورگا ، غیرت تے قانون ، دیوانہ مستانہ اور سونا چاندی ‘‘ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ رانی کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ گانے کی پکچرائزیشن بہت عمدہ طریقے سے کراتی تھیں اور اگر گانے کے ساتھ رقص بھی ہو تو کیا کہنے ۔ دل میرا دھڑکن تیری ‘‘ کا ایک مشہور نغمہ ہے جھوم اے دل وہ میرا جانِ بہار آئے گا ‘‘ ۔ قتیل شفائی کے اس گیت کی دھن ماسٹر عنایت حسین نے بنائی تھی ۔ فلم میں یہ گانا وحید مراد پر فلمبند ہوا تھا ۔ یہ مسعود رانا کے بہترین نغمات میں سے ایک ہے ، اس گانے کے ساتھ رانی نے اتنی عمدگی سے رقص کیا کہ گانے کی مقبولیت کو چار چاند لگ گئے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے پنجابی فلم اُچا ناں پیار دا ‘‘ میں بھی اس گانے پر دلکش رقص کیا دِلوں من گئی ، تیری بن گئی‘‘۔

    رانی نہایت حسین و جمیل تھیں خاص طور پر اُن کی آنکھوں کا تو جواب ہی نہیں تھا ، قدرت نے انہیں بے حد خوبیوں سے نوازا تھا انہوں نے رومانوی کرداروں کے علاوہ المیہ کردار بھی ادا کئے ، ان کی فلم اِک گناہ اور سہی ‘‘ کا اگر ذکر نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہو گی ۔ اس فلم میں انہوں نے ڈبل رول ادا کیا اور رومانوی اداکاری کیساتھ المیہ اداکاری بھی کی ۔ ویسے تو صبیحہ خانم نے اِس فلم میں یادگار کردار ادا کیا تھا لیکن رانی کی بے مثال اداکاری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    رانی کی دو فلموں انجمن ‘‘ اور امرائو جان ادا ‘‘ اس لحاظ سے بہت یادگار ہیں کہ ان دونوں فلموں کے کلائمیکس سانگز)بہت زیادہ ہٹ ہوئے ۔ دونوں گیت رانی پر عکس بند کئے گئے اور ان گیتوں کے اختتام پر رانی موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ۔ انہوں نے موت کے مناظر میں بھی بڑی جاندار اداکاری کی ۔ فلم انجمن ‘‘ کے گیت کے بول تھے اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ‘‘ اور امرائو جان ادا ‘‘ کے آخری گیت کے بول کچھ یوں تھے جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں ‘‘ یہ دونوں گیت میڈم نورجہاں نے گائے تھے ، ان دونوں یادگار گیتوں کی عکس بندی بھی کمال کی تھی۔ رانی نے ان دونوں فلموں میں اپنے آپ کو ایک بڑی اداکارہ ثابت کیا۔

    رانی پر رُونا لیلیٰ کے گائے جو گانے عکس بند ہوئے انہوں نے بہت شہرت حاصل کی ، خاص طور پر تہذیب ، انجمن اور امرائو جان ادا ‘‘ میں رُونا لیلیٰ نے نثار بزمی کی موسیقی میں جو لازوال گیت گائے وہ رانی پر عکس بند ہوئے ۔ مختار بیگم ایک مشہور کلاسیکل سنگر تھیں انہوں نے رانی کی تربیت کی ۔ وہ چاہتی تھیں کہ رانی گلوکارہ بنیں لیکن رانی کو گلوکاری سے کوئی لگائو نہیں تھا ، وہ اداکارہ بننا چاہتی تھیں ۔ 1961ء میں انور کمال پاشا نے انہیں اپنی فلم محبوب ‘‘ میں ایک ڈانسر کا کردار دیا لیکن دیور بھابھی ‘‘ ان کی وہ سپر ہٹ فلم تھی جہاں سے ان کی مقبولیت کا سفر شروع ہوا۔

    رانی نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا اوروہ چھوٹی سکرین پر بھی کامیاب رہیں ، انہوں نے 3 شادیاں کیں۔ ان کی پہلی شادی حسن طارق سے، دوسری جاوید قمر سے اور تیسری سرفراز نواز سے ہوئی۔


    2gvsho3 - اداکارہ رانی ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ ظفر

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    20,820
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5863
    Rep Power
    214774

    Default Re: اداکارہ رانی ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ ظفر


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •