Results 1 to 2 of 2

Thread: مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    21,750
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5865
    Rep Power
    214776

    candel مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

    مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

    Makhi House.jpg
    حیدرآباد نہرو بھی اس کی شان و شوکت دیکھنے کیلئے آئے تھے

    کچھ مکان ویران ہوتے ہیں ،جہاں ہمیشہ خاموشی بستی ہے، سناٹے کا راج ہوتا ہے اور کوئی مکین وہاں نہیں رہتا۔ پھر بھی ان میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ ان کی ویرانی آنکھوں کو نہیں چبھتی اور خاموشی روح کو نہیں ڈستی۔وہاں کوئی آتا جاتا نہیں لیکن پھر بھی آنکھوں کے لئے کشش رکھتے ہیں۔
    مشہور فلسطینی شاعر محمود درویش نے کہا تھا ، ''گھر ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی پینے کا نام ہے‘‘۔مگر میں کہتا ہوں ،گھر تو ماں کے ہونٹوں سے نکلی ہوئی لوری سننے کا نام ہے۔ ایک ایسا ہی مکان جسے اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے، آج بھی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ مکان حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے ''مکھی ہاؤس ‘‘کے نام سے مشہور ہے جسے ''مکھی محل‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی یہاں آ چکے ہیں۔
    آپ جیسے ہی ''مکھی ہاؤس‘‘ میں قدم رکھیں گے، ایک بڑا سا ہال سامنے ہوگا ، جس میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک کا احساس ہوتاہے ۔ حیدرآباد کی گرمی مارچ سے شہریوں کو پریشان کرنا شروع کرتی ہے، مگر مکھی ہاؤس میں اس کا زور کم ہونے لگتا ہے۔
    یہ عمارت 1920ء میں حیدرآباد کی شہری انتظامیہ کے سربراہ اور مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، اسے انہوں نے ''مکھی محل‘‘ کا نام دیا تھا، یہ واقعی محل سے کم نہیں ۔''مکھی ہاؤس‘‘ سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اس کے آثار مٹ چکے ہیں یہاں اب گنجان آبادی ہے۔
    اس شاہکار مکان کی تعمیر کے سات برس بعد ، 1927ء میں جیٹھانند مکھی انتقال کر گئے۔ وقت اور حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، وقت کا بہائو کبھی انسان کے حق میں تو کبھی اس کے خلاف ہو جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت شروع ہوئی، یہ عمل سال ہا سال جاری رہا۔ یہ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ دوران ہجرت یہ گھر اجڑ جائے گا۔ اور ہم لوگوں سے اس کی کہانیاں سنتے رہ جائیں گے۔
    مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی مکان میں مقیم تھا۔1957 ء میں انہیں یہ شہر چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں مقیم تھے، مگر انہیں ڈرایا گیا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ جس پر انہیں اسے خیرباد کہنا پڑا ۔ یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔
    '' مکھی ہاؤس‘‘ میں کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ قائم کیا گیا تھا۔ بعدازاں یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔1988ء میں کچھ لوگوں نے'' مکھی ہاؤس‘‘ کو نذر آتش کر دیا ۔ دروازے، کھڑکیاں اور فرنیچر،سب کچھ جل کر خاک ہو گئے۔مگرمحل کے نصیب میں شاید اچھے دن بھی لکھے تھے ، شعلوں کی گرمی سہنے، اور تباہی لانے والی ہر مصیبت برداشت کرنے کے باوجود آج بھی یہ صحیح سلامت ہے۔
    ۔2013 ء میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا،انہوں نے یہ عمارت سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ۔چنانچہ اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
    مکھی ہاؤس دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار دوبارہ بنائے گئے ہیں۔عمارت کی تعمیر اینٹوں کی بجائے بلاکس سے کی گئی ہے ،موٹی دیواروں میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کے بنے ہوئے بے شمار دروازے، روشندان اور کھڑکیاں ہیں۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب ہیں ۔ کشادہ کمرے اور راہداریاں اس کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس دور کے تعمیراتی رجحانات کے مطابق یہ گھر بنایا گیا تھا۔مگر اس کی ایک خاص بات اس کا ایک مرکزی گنبد ہے جو اسے تمام دیگر عمارات سے ممتاز کرتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔
    عمارت میں موجود فرنیچر کا قدیم انداز قائم رکھا گیا ہے۔ میز، کرسیاں اور صوفے پرانی جگہوں پر ہی رکھے ہیں۔مگر لائٹنگ کا سسٹم جدید رکھا گیا ہے جو کہ اس عمارت کی دوسری اشیاء سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے اسے بھی قدیم دور کے مطابق بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔
    مکھی ہاؤس کا ہر حصہ دیکھیں ۔ ایک لمحے کے لیے آپ کو یہ خیال ستانے لگے گا کہ آج ہم جیٹھانند مکھی کو یاد کرتے ہیں، مگر ان گمنام مزدوروں اور ان ہاتھوں کو کیوں یاد نہیں کرتے جن کا خون پسینہ اس گھر کے بام و در میں شامل ہے، جن کے بنا یہ محل نما گھر تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ یہ گھر کن کن مزدوروں نے بنایا تھا، ان کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتایاگیا، نہ ہی کوئی ان کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ وقت کی دھول میں وہ سارے نام اور کردار کہیں کھو گئے ہیں، جنہوں نے ایک ایسی عمارت کو حسن بخشا ہے جسے آنے والی نسلیں بھی سراہتی رہیں گی۔میٹ جان ڈو'فلم کے کردار جان ڈو کی تقریر یاد آنے لگی جس میں اس نے کہا تھا،
    ''خواتین و حضرات!
    میں ہی وہ شخص ہوں، جسے آپ جان ڈوکے نام سے جانتے ہیں ۔ میں نے یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ نام مجھے بیان کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک اوسط انسان کو بیان کرتا ہے اور وہ میں ہوں، میں ہی تھا جس نے کہا تھا کہ کرسمس کی رات شہر کے سٹی ہال والی عمارت سے کود جاؤں گا۔ ہم ایک عظیم خاندان ہیں، ہم ہی وہ بہتر لوگ ہیں، جو اس زمین میں ہل چلاتے ہیں، ہم آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔ ہم فصل اگاتے ہیں، کانیں کھودتے ہیں، کارخانوں میں کام کرتے ہیں، کتابیں رکھتے ہیں، جہاز اڑاتے ہیں اور بسیں چلاتے ہیں، ہم سب جان ڈو ہیں ‘‘۔ وہ سب مزدور بھی جان ڈو ہوں گے جن کی بدولت ایک گھر محل بنا اور ایک محل عجائباتِ عالم کی فہرست میں شامل ہو کر تاریخ میں محفوظ ہوگیا۔
    اس عمارت میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ اسے دوبارہ زوال نہ آئے ، کیونکہ حیدرآباد میں یہی ایک اہم اور نایاب عمارت باقی بچی ہے۔


    2gvsho3 - مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    21,750
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5865
    Rep Power
    214776

    Default Re: مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

    2gvsho3 - مُکھی ہاؤس میوزیم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر طفیل

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •