Results 1 to 2 of 2

Thread: اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    21,750
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5865
    Rep Power
    214776

    New5555 اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی

    اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی
    کوئی سفر اِدھر کا بھی کر تو سہی کبھی
    بے شک تو اپنی گرمیٔ رفتار کم نہ کر
    رُک تو سہی کہیں پہ‘ ٹھہر تو سہی کبھی
    اس اپنے آسماں سے اُتر تو سہی ذرا
    اور پائوں میری خاک پہ دھر تو سہی کبھی
    خالص ہوں اور تیری ملاوٹ بھی چاہیے
    خالی ہوں‘ اپنے آپ سے بھر تو سہی کبھی
    دھندلاہٹیں ہیں خوابِ تماشا کی ہر طرف
    تُو نقشِ نازنیں ہے‘ اُبھر تو سہی کبھی
    اندازہ کوئی حُسن کی دہشت کا ہو تجھے
    اک بار اپنے آپ سے ڈر تو سہی کبھی
    کتنی یہ سرد مہری ہے، اس کا حساب کر
    خود اس میں تھوڑی دیر ٹھٹھر تو سہی کبھی
    تجھ کو بھی ہو خبر کہ اندھیرا ہے کس قدر
    اے روشنی کی دھار بکھر تو سہی کبھی
    ایک اور زندگی کا مزہ اس میں ہے‘ ظفرؔ
    اُس پر نئی امنگ سے مر تو سہی کبھی
    ظفر اقبال
    2gvsho3 - اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    21,750
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5865
    Rep Power
    214776

    Default Re: اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی

    2gvsho3 - اس دل کے راستے سے گزر تو سہی کبھی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •