Results 1 to 2 of 2

Thread: ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,618
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    candel ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے


    ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے

    Sahir.jpg
    ساحر لدھیانوی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہر دور کے پسندیدہ شاعر رہے ہیں۔ساحر لدھیانوی کہتے تھے مسلم کش فسادات سے انڈیا میں علم و ادب کی تمام شمعیں بجھنے لگیں۔انڈیا میں وہ تمام قدریں خطرے میں پڑ گئیں جن سے ادب ، آرٹ اور تہذیب کے سر چشمے پھوٹتے تھے۔ساحر کی عمر 6 ماہ تھی کہ والدین میں علیحدگی ہوگئی ، جاگیر دار باپ ساحر کو حاصل کرنے کا ہر مقدمہ ہار گیا
    ساحر لدھیانوی (8مارچ 1921ء تا 25 اکتوبر1980ئ) کو کریم پورہ (لدھیانہ) کی ’’سرخ سینڈ سٹوں حویلی‘‘ میں پیدا ہوئے۔ نام عبدالحئی فضل محمد رکھا گیا مگر قسمت میں شہرت ’’ساحر لدھیانوی‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔ شائدیہ سرخ حویلی میں پیدائش کا ہی اثر تھا کہ ان کی شاعری پر ہمیشہ ترقی پسندی کی چھاپ رہی۔

    ساحر 6 ماہ کے تھے کہ جاگیر دار باپ اور ماں میں ان بن ہو گئی، دونوں الگ ہو گئے ،باپ، بیٹے ساحر کوحاصل کرنے کا ہر مقدمہ ہارگیا۔ خلع لیا تھا ، ماںکو نان ونفقہ سے محروم ہونا پڑا۔ مالی تنگی اور ماں کا ہر دکھ ساحر کے سینے میں کسی قہر کی طرح پنپتا رہا۔ اس وراثت سے ساحر زندگی بھر دامن نہ چھڑا سکے ۔سریندر دوئل نے اپنی کتاب ’’ساحر ۔ ایک ادبی خاکہ ‘‘ میں زندگی کا نچوڑ یوں بیان کیاہے،’’بقول احمد راہی،ساحر نے زندگی میں ٹوٹ کر محبت بھی کی اور کھل کر نفرت بھی۔انمٹ محبت انہیں اپنی ماں سے تھی اور واحد نفرت کا نشانہ باپ تھے‘‘۔ ساحر کہتے ہیں،

    میں نے چاند ستاروں کی تمنا کی تھی

    مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا

    میں وہ نغمہ ہوں جسے پیار کی محفل نہ ملی

    وہ مسافر ہوں جسے کوئی بھی منزل نہ ملی

    دل میں ناکام امیدوں کے بسیرے پائے

    روشنی لینے کو نکلا تو اندھیرے پائے

    1943ء میں ساحر نے لاہور کو مسکن بنا لیا جہاں وہ دیال سنگھ کالج میں طلباء یونین کے صدربن گئے ۔بڑے ہوئے تو شہرہ آفاق جرائد کی ادارت سنبھال لی۔ ’’ادب لطیف‘، ’’شاہکار‘‘ اور ’’سویرا‘‘ انہی کے لگائے ہوئے پودے ہیں، یہ اب بڑا ادبی حوالہ بن چکے ہیں ۔ لاہور میں قیام کے دوسال کے اندر اندر انہوں نے زمانے کے حوادث کو آشکارا کرنے والی شاعری پر مشتمل اپنا پہلا مجموعہ کلام ’’تلخیاں‘‘ مکمل کیا۔فیض احمد فیض کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کی بحر میں لکھی گئی مشہور زمانہ نظم ’’آواز آدم‘‘ بھی انہوں نے یہیں شائع کی جس کی گونج سرکاری ایوانوں میں بھی سنی گئی۔ کہتے ہیں،

    دبے گی کب تک آواز آدم، ہم بھی دیکھیں گے

    رہیں گے کب تلک جذبات برہم بھی دیکھیں گے

    چلو یونہی سہی یہ جور پیہم، ہم بھی دیکھیں گے

    دار زنداں سے دیکھیں یا عروج دار سے دیکھیں

    تمہیں رسوا سر بازار عالم ہم بھی دیکھیں گے

    ذرا دم لو مآل شوکت جم، ہم بھی دیکھیں گے

    1949 ء میں وہ لاہور سے واپس بمبئی چلے گئے جہاں ’’اندھیری‘‘ قصبے کی اندھیر زندگی کومنتظر پایا۔ساحر پھراسی ’’اندھیری‘‘ کے ہو رہے۔ یہیں کوٹھی بنائی ، آخری سانس بھی اسی کوٹھی میں لی۔ کوٹھی کا نام اپنے مجموعہ کلام ’’پرچھائیاں ‘‘ کے نام پر رکھا۔یہ ’’پرچھائیاں آج بھی اہل محلہ کو ساحر کی یاد دلاتی ہے۔کرشن چندر اورشاعرگلزار بھی یہیں ان کے ہمسائے بنے ۔ چند ہی برسوں میں ہر جگہ ’’ساحر ساحر‘‘ ہو رہا تھا، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان کاہی نام گونج رہا تھا۔مجموعہ کلام ہاتھوں ہاتھ بک گیا، بڑے بڑے انعامات پانے کے بعد ان کی کیفیت کچھ یوں تھی،

    میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل مری کہانی ہے

    پل دو پل مری ہستی ہے ،پل دو پل مری جوانی ہے

    مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئے

    کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے، کچھ نغمے گا کر چلے گئے

    وہ بھی اک پل کا قصہ تھے، میں بھی اک پل کا قصہ ہوں

    کل تم سے جدا ہو جائوں گا، گو آج تمہارا حصہ ہوں

    پل دو پل میں کچھ کہہ پایا ،اتنی ہی سعادت کافی ہے

    پل دو پل تم نے مجھ کو سنا، اتنی ہی عنایت کافی ہے

    کل اور آئیں گے ،نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے

    مجھ سے بہتر کہنے والے ،تم سے بہتر سننے والے

    ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی، آج اگتی ہے کل کٹتی ہے

    جیون وہ مہنگی مدرا ہے ،جو قطرہ قطرہ بٹتی ہے

    ساگر سے ابھری لہر ہوں میں،ساگر میں پھر کھو جائوں گا

    مٹی کی روح کا سپنا ہوں، مٹی میں پھر سوجائوں گا

    کوئی مجھ کو یاد کرے ،کیوں کوئی مجھ کو فریاد کرے

    مصروف زمانہ میرے لئے ،کیوں وقت اپنا برباد کرے

    ان کی ساحرانہ شاعری حیران کر دینے والی تھی، وہ برصغیر کے ترقی پسند شعراء کی صف میں کم عمر بھی تھے اور نمایاں بھی ، جذبات کی شدت ان کی شاعری کی پہچان ہے لیکن جذبات میں آ کر وہ تخت الٹانے اور محلات کو گرانے کی بات نہیں کرتے ۔دھیما لہجہ شناخت ہے، وہ تو اپنے اندر کی دنیا میں گم رہ کر باہر کی دنیا کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں،دنیاوی معیارات سے تنگ بلکہ باغی تھے،ملاحظہ ہو،

    دنیا کی نگاہوں میں برا کیا، بھلا کیا

    یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تواچھا

    جھوٹ تو قاتل ٹھہرا، اس کا کیا

    سچ نے بھی انسان کا خون بہایا ہے

    وہ کبھی کبھار دنیا سے اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں کہ کچھ بھی مل جانے کی خوشی سے ماوراء نظر آتے ہیں، کیونکہ چہار سو اندھیرا ہی اندھیرا ہے، ہر انسان کسی نہ کسی روگ کے ساتھ جی رہا ہے، پوری دنیا کا یہی چلن ہے۔ کہتے ہیں،

    ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی

    نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی

    یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی

    یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

    یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی

    یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی

    یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی

    یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

    ’’تلخیاں ‘‘ کا تیسرا ایڈیشن زیر طبع تھا کہ انڈیا میں مسلم کش فسادات شروع ہو گئے۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، شاعری کی فکر کس کو تھی۔جس سے انڈیا میں نہ صرف اس ایک مجموعہ کلام کی اشاعت متاثر ہوئی بلکہ علم و ادب کی تمام شمعیں ایک ایک کر کے بجھنے لگیں۔دہلی ، ممبئی اور کئی علاقوں میں ادبی اداروں کو بھی تالے لگ گئے ۔ساحر خود کہتے ہیں، ’’اس سے وہ تما م قدریں خطرے میں پڑ گئیں جن سے ادب ، آرٹ اورتہذیب کے سر چشمے پھوٹتے تھے ۔ حالات ادب اور ادیب، دونوں کے لئے مخدوش ہیں ۔ کوئی دوسری کتاب آپ تک اسی وقت پہنچ سکے گی جب ترقی اور انقلاب کی طاقتیں رجعت پسند طاقتوںپر اس حد تک قابو پا لیں گی کہ موجودہ کشت و خون کا ہنگامہ رک جائے اور تہذیبی زندگی کو از سر نو ترتیب دینے کے امکانات فراہم ہوں۔‘‘

    دیکھا ہے زندگی کوکچھ اتنے قریب سے

    چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

    ان کے نزدیک زندگی سے بڑی حقیقت کوئی نہیں، اس میں خوابوں کی کوئی حیثیت ہے نہ خوابوں میں رہنے والوں کا کوئی مقام ، وہ کہتے ہیں... کام ، کام اور کام۔ ان کی شاعری میں خوابوں میں جینے والی قوموں کے لئے محکومی کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔ نظم ’’شہزادے ‘‘پڑھ لیجئے،

    ذہن میں اجداد کے قصے لے کر

    اپنے تاریک گھروندوں کے خلاء میں کھو جائو

    مرمریں خوابوں کی پریوں سے لپٹ کر سو جائو

    ابر پارو پہ چلو، چاند ستاروں پہ اڑو

    کچھ ناقدین نے ان کی شاعری کو نہایت سادہ گردان کر مسترد کرنا چاہاجیسے ،

    کل کا دن کس نے دیکھا ،آج کا دن کھوئیں کیوں

    جن گھڑیوں میں ہنس سکتے ہیں ان گھڑیوں میں روئیں کیوں

    گائے جا مستی کے ترانے ٹھنڈی آہیں بھرنا کیا

    موت آئے گی تو مر بھی لیں گے، موت سے پہلے مرنا کیا

    لہٰذایہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اشعار کے بارے میں ان کا نکتہ نظرسمجھنے کی ضرورت ہے۔وہ ایک ایک شعر کے فنی لوازمات اور جمالیاتی پہلو کے قائل ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا مخاطب پڑھا لکھا ،امیر طبقہ ہی نہیں ہے۔ وہ مزدوروں اور کسانوں سے بھی مخاطب ہیں۔ اگر ہر شعبہ ہائے زندگی میں ابلاغ نہیں ہو گا توان کاپیغام کیسے گھر گھر پہنچے گا یہی نکتہ نظرعام فہم شاعری کی بنیاد بنا ۔ وہ کہتے تھے ۔ ’’سماج کے اس طبقے کو حکمران جماعتوں نے علم ،آرٹ اور ادب کے سرچشموں سے بہت دورکر رکھا ہے۔ اس طبقے تک پہنچنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی بات سادہ زبان میں کہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس صورت میں فن کار کو اپنی روایتی بلندی سے نیچے اتر کر آنا پڑے گا، لیکن موجودہ سماجی حالت میں یہ ضروری ہے‘‘۔وہ کتنی بڑی بات سادہ سے لہجے میں کہہ جاتے ہیں، جیسا کہ یہ پیغام،

    اے رہبر ملک و قوم ذرا

    آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا

    کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بھی بتا

    یہ کس کا لہو ہے کون مرا

    دھرتی کی سلگتی چھاتی کے بے چین شرارے پوچھتے ہیں

    تم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے، وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیں

    سڑکوں کی زباں چلاتی ہے، ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں

    یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟

    اے رہبر ملک و قوم ذرا

    یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟

    اس نظم میں ان کا مخاطب انگریز ہیں، جنہوں نے 1946ء میں مسلمانوں کا خون بہایا تھا۔علامہ اقبالؒ کی طرح وہ بھی بڑی طاقتوں کے جبر سے نالاں تھے۔کہتے ہیں،

    تم ہی تجویز صلح لاتے ہو

    تم ہی سامان جنگ بانٹتے ہو

    تم ہی کرتے ہو قتل کا ماتم

    تم ہی تیر و تفنگ بانٹتے ہو

    وہ آج بھی اپنے پیغام کی صورت مں زندہ ہیں،کیا ہم ان کے یہ اشعار بھول گئے،

    جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہے

    جسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتے

    دھڑکنیں رکنے سے ارمان نہیں مر جاتے

    سانس تھم جانے سے اعلان نہیں مر جاتے

    ہونٹ جم جانے سے فرمان نہیں مر جاتے




    2gvsho3 - ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,618
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5874
    Rep Power
    214777

    Default Re: ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے

    2gvsho3 - ہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی ، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •