Results 1 to 2 of 2

Thread: برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,500
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5871
    Rep Power
    214777

    candel برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

    برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

    sp.jpg
    برصغیر پاک و ہند میں ایک ایسا انگریز جج بھی آیا جو تاج برطانیہ کی انتظامیہ کی غیر انسانی حرکتوں کیلئے بڑا چیلنج بن گیا۔اس جج نے بے گناہ مسلمان شہریوں پر تشدد کرنے کے الزام میں انگریز انجینئر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ۔ایک اور مقدمے میں جج کو معلوم تھا کہ مجرم جلد ہی ضمانت کرا کے باہر آجائے گا لہٰذا مجرم کو اپنے فیصلے کی کاپی دینے کی بجائے وہ مظلوم اور کلکتہ کے طاقتور اخبار کو ایک ایک کاپی دینے کے بعد چٹا گانگ کے دریا میں اپنے ماتحت عدالتی نظام کی مانیٹرنگ پر روانہ ہو گیا۔یہ وہی جج ہے جو اپنے ہی لوگوں کے زیر عتاب آنے کے بعد جب برطانیہ جانے لگا تو سارے گھر خالی تھے ،عوام سڑکوں پر تھے اور اسے الوداع کہنے کیلئے سبھی آنکھیں اشکبار تھیں۔
    ۔1857ء کی جنگ آزادی اور مارلن منٹو اصلاحات کا درمیانی عرصہ برصغیر میں کافی ہنگامہ خیز رہا ،جب مسلمان آزادی کی جدو جہد میں اپنے خون کے نذرانے دے رہے تھے ،وہیں انہیں انصاف مہیا کرنے کے لئے چند انگریز افسربھی مل گئے۔بنگال میں مقیم آبرے پینل (Aubrey Pennell)بھی ایسا ہی ایک انگریز افسر تھا۔برما(میانمار) میں خدمات انجام دینے کے بعد اسے انڈیا بھیج دیا گیا تھا۔کیونکہ اس نے برما میں ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ہونے والی کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔وہ وہاں محکمہ سیٹل منٹ سے منسلک تھا ،جب اس نے اعلیٰ حکام کی من مانی کو روکنا چاہا ،تو اسی کے گورے افسروں نے جان چھڑانے کے لئے اسے ترقی دے کربطور جج کے بنگال ٹرانسفر کر دیا ۔ انگریز سمجھتے تھے کہ اعلیٰ مرتبہ پانے سے وہ مرہون منت رہے گا ،احسانوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا اور انصاف کرنا بھول جائے گا،اس کی آزادی سلب ہو جائے گی۔مگر وہ غلط تھے۔
    میمن سنگھ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے انگریز افسروں کی غیر قانونی حرکات اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر وہ سخت برہم ہوا۔اس نے ایسا سخت فیصلہ لکھا کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی الفاظ عدالتی کارروائی سے حذف کرنے کے احکامات جاری کیے مگر آبرے پینل نہ مانا۔ چنانچہ اسے بنگال سے ایک چھوٹے علاقے چھاپڑا میں تبدیل کر دیا گیا۔
    چھاپڑا میں اس کے پاس انگریز انجینئر کے ایک بے گناہ دیہاتی پر تشدد کا کیس آیا۔انجینئر نے دیہاتی سے بے گار لینا چاہی مگر وہ نہ مانا ۔ اس کے انکار پر انگریز انجینئر نے اسے خوب مارا پیٹا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی مدد سے دو ماہ کیلئے جیل بھجوا دیا۔اس نے سرکاری افسران کی ان حرکات کیخلا ف ہر جگہ درخواستیں دیں مگر مایوسی کے سواکچھ نہ ملا ۔یہ آبرے پینل جیسے جج کیلئے بڑا ہی فٹ کیس تھا۔تشدد اور بربریت بالکل واضح اور صاف تھی ، ایک بے گناہ شہری کو منصفانہ سماعت کے بغیر ہی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔چنانچہ مظلوم کی درخواست کسی نہ کسی طر ح پینل کی عدالت میں پہنچ گئی۔اپیل کو پڑھنے اور گواہوں کو سننے کے بعد پینل نے مظلوم دیہاتی کو رہا کرنے اور حملہ آورانگریز کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا۔بطور جج پینل کے اتنے سخت ریمارکس تھے کہ کلکتہ ہائی کورٹ بھی برہم ہو گئی۔ بقول کلکتہ ہائی کورٹ ''پینل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نظام انصاف پر بھی حملہ کیا ہے‘‘۔عدالت کو اس کے لب و لہجے پر شدید ا عتراضات تھے چنانچہ اب اس کی منزل نوا کھلی کا دور افتادہ علاقہ تھی۔ہر کوئی وہاں جانے سے گھبراتا تھا۔
    یہ تبادلہ بھی پینل کا کچھ نہ بگاڑ سکا، اس نے کسی صورت اپنے فیصلے میں نرمی برتنے سے انکار کیا۔یہاں بھی اس کے پاس ایک اور ایسا ہی کیس آگیا۔یہ قتل کیس تھا۔قاتل انسپکٹر کے قریبی رشتہ دار تھے۔اور ضلع کا ایس پی ان سے ملا ہوا تھا۔
    ان دنوں لارڈ کزن وائسرائے تھا ۔ان کا کنٹرول تھا نہیں، اور لوگ من مانیاں کر رہے تھے۔ جج پینل نے اسی وقت ایس پی کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے اسے بطور مجرم سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی ہدایت دی۔پینل نے فیصلے کی کاپی مہیا کرنے سے پس و پیش کیا۔ اس نے مجرم کو جیل میں ڈالنے کے بعد فیصلہ لکھنے میں تین ہفتے لگا دئیے۔تاکہ وہ کچھ ہفتے تو جیل میں رہ سکے۔ بعد ازاں اس نے فیصلہ عدالت میں پڑھنے کے بعداس کی کاپی کلکتہ کے بڑے ا خبار کے نیوز رپورٹر کو دے د ی اور دوسری کاپی مظلوم پارٹی کے حوالے کرنے کے بعدعدالت سے چھٹیاں لے کر انسپکشن پر چلا گیا۔اس فیصلے میں بھی اس نے انتہائی سخت زبان استعمال کی جس پر ایک مرتبہ پھر انگریز افسر چیخ اٹھے۔
    بنگال میں کئی دریا سال کے بعض مہینوں میں بپھرے رہتے ہیں حتیٰ کہ نہروں میں بھی سیلابی کیفیت ہوتی ہے ایسے میں رابطوں کا واحد ذریعہ کشتیاں ہوتی ہیں ۔ پینل نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو جیل میں ڈالا تو ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس سے خالی ہوگیا۔ فیصلے کی کاپی نہ ملنے سے انگریز انتظامیہ اپیل کرنے سے بھی قاصر تھی۔ اسی اثنا میں رپورٹر کو مہیا کی گئی کاپی''امرت بازار پتریکا ‘‘ میں قسط وارشائع ہوناشروع ہو گئی اور کلکتہ کے حکام کچھ نہ کر سکے۔ غم و غصے اور بے اختیاری کے عالم میں وہ پینل کو ڈھونڈتے رہے جو انہیں کہیں نہ مل سکا ،وہ تو بنگال کے پانی میں کشتی میں محو سفر تھا۔
    پینل نے ذہنی استحکام کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار باراصرار کے باوجو د ہائیکورٹ کو بھی کاپی دینے سے پس و پیش کیا۔اس نے سٹاف کی کمی کو بہا نہ بنا کر اضافی کاپیوں کی تیاری میں تاخیر کی اس نے کہا کہ مظلوم کا پہلا حق ہے لہٰذا ترجیحی بنیادوں پر اسے کاپی مہیا کر دی گئی ہے۔البتہ رپورٹر نے اپنے کسی ذرائع سے کاپی لے لی ہوگی۔ اس گستاخی پر پینل معطل ہوا۔ مگر افسران بالا کس بات پر اسے سزا دیتے ؟یہی کہ اس کی زبان ذرا نا مناسب ہے ؟یا اس بات کی کہ اس نے انصاف کیا ہے؟۔




    2gvsho3 - برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    22,500
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5871
    Rep Power
    214777

    Default Re: برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

    2gvsho3 - برٹش ایس پی کو جیل بھجوانے پر جج آبرے پینل کی چھٹی

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •