Results 1 to 2 of 2

Thread: انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214780

    candel انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ

    انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ ،

    engraiz Judge aur maulana thansiri.jpg
    سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

    بارہویں صدی ہجری کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند کے افق پرگہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے،جہالت وبربریت کے بادل، وہ مسلمان جن کے دم سے یہاں صدیوں اللہ اور رسول پاک ﷺ کے نغمے گونجتے تھے وہ خود بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور ہو چکے تھے ،وہ مسلمان مدتوں جن کی عظمت کے قصے سنائے جاتے تھے ،جن کی عظمت و شہرت کے پرچم لہراتے رہے ،در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ان کی سلطنت کا چراغ گل ہو چکا تھا، مسلمان بے انتہا زوال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان حالات میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ نے تاریکیوں و گمراہیوں کے اس ظلمت کدہ میں حق کے چراغ روشن کئے۔لیکن دنیا ابھی ایک او رمرد میداں کی منتظر تھی اور وہ تھے حضرت مقام محمد اسمعٰیل شہید۔ان کی تحریک زور پکڑنے لگی اور انگریزوں نے گھبرا کر چن چن کر مسلمانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ، انڈیا ان کی قتل گاہ بنتا جا رہا تھا لیکن جانثاروں کے قدم ڈگمگائے نہ کوئی لغزش آئی۔
    ان رہنمائوں کے دم سے 1863ء میں ایک تحریک شروع ہوئی۔جسے معرکہ ''معرکہ امبیلا‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ امبیلے میں ہونے والی یہ لڑائی کئی مہینے تک جاری رہی، انگریز فوج کے سپاہ سالار جنرل چیمبرلین پرمجاہدین نے چاروں طرف سے دھاوا بول دیا اور وہ امبیلے کی ایک گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئے،انہوں نے پنجاب کی تمام چھائونیوں سے فوج طلب کرلی ،لیکن عوام کے سامنے بے بس رہے ، ان کے سات ہزار تربیت یافتہ گورے سپاہی ،غیر تربیت یافتہ مسلمان دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔جنرل چیمبرلین خود بھی زخموں سے چور چور تھا۔ اس جنگ میں جگ ہنسائی کے بعد انگریز وائسرائے لارڈ ایلجن انڈیا سے لندن پدھار گیا۔
    ۔1864ء میں انگریز انتظامیہ نے اس تحریک کے رہنمائوں کو چن چن کر گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مولانا محمد جعفر تھانیسری بھی انگریزوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ وہ بھی تحریک میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف ایک سپاہی نے انگریز افسروں کے کان بھر دیئے تھے ۔
    غزن خان نامی ایک افغان پانی پتی کرنال چوکی میں بطور سپاہی تعینات تھا ۔ اس نے ترقی کے لالچ میں جعفر تھانیسری کے بارے میں کہانی گھڑ کر آگے بیان کر دیں۔ڈپٹی کمشنر نے اطلاع ملتے ہی تھانیسری کی تلاشی کا پروانہ روانہ کر دیا ۔تار کے انبالہ پہنچتے ہیڈ سپرٹنڈنٹ بھاری جمعیت کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ پولیس کو وہاں سے دینی رہنمائوں کے کچھ خطوط ملے جنہیں وہ مشکوک جان کر ساتھ لے گئے۔
    بعد ازاں ان خطوط کی بناء پر ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ ہوا۔مگر اس وقت تک وہ فرار ہو چکے تھے۔ حکومت نے گرفتاری کیلئے سر کی قیمت دس ہزار روپے مقرر کر دی۔قیمت بہت زیادہ تھی، مخبری ہو نے پر جلد ہی علی گڑھ میں دھر لئے گئے ۔
    جیل کا کھانا دو روٹیوںاور ساگ پر مشتمل تھا، ساگ میں ڈنٹھل زیادہ تھے جنہیں چبانا بھی مشکل تھا۔ اسی لئے جب قیدیوں کو پیسنے کے لئے گندم دی جاتی تھی تو یا تو سیروں گندم ہی کچی چبا جاتے تھے یا پھر آتے کو پانی میں ملا کر پی لیتے تھے۔ اگلے روز تھانیسری کو ڈی سی کے بنگلے پر پیش کیا گیا۔انہوں نے سرکاری گواہ بنانے کے لئے ساتھیوں کے نام پوچھے ، اور رہائی کے بعد ایک بڑے عہدے پر لگانے کی پیش کش بھی کی مگر تھانیسری نے صاف انکار کیا۔ہر طرح سے مایوس ہونے کے بعد ڈی سی نے انہیں رات آٹھ بجے واپس جیل بھجوا دیا ۔
    علی گڑھ میں مظاہروں کا اندیشہ تھا لہٰذا مقدمہ انبالہ میں چلایا۔ان کے مقدمے کی کہانی بھی عجیب ہے، جعفر تھانیسری جو کچھ بھی کہتے، ریکارڈ کاحصہ ہی نہیں بنایا جاتا، جبکہ بے سر و پاء الزامات ان کے سر تھوپ دیئے گئے۔اس دوران ایشری پرشاد (استغاثہ)نے انہیںنپولین اور مہدی سوڈانی جیسا انگریزوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔کچھ عرصے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہوا۔عدالت میں پیروی کے لئے مولاناعبدالرحیم، الہٰی بخش، میاں جان منشی عبدالغفور اور کئی دیگر قیدیوںنے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وکیلوں کے وکالت ناموں پر دستخط کر دیئے مگر تھانیسری نے خود مقدمہ لڑنے کا قصد کیا۔جبکہ سرکاری وکیل میجرنکفیل اور پارسن تھے۔ان کے پاس تھانیسری کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔لوگ سرکاری وکلاء کی بے بسی پر ہنستے تھے۔جب کچھ نہ بن پڑا تو جج صاحب نے کہا، ''تمہارے جواب کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہتر ہے کہ تم اپنا گناہ تسلیم کر لواور عدالت سے مہربانی اور رحم کی اپیل کر کے معافی مانگو‘‘۔
    ہمارے ساتھیوں کے وکیل بہت قابل تھے انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جس جگہ کو وقوعہ کا مقام بتایا جا رہا ہے وہ حکومت کے دائرہ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔اس لئے اسے کیس کی سماعت کا سرے سے اختیار ہی نہیں ہے۔ اس دوران وائسرائے سے بھی مشورہ کیا گیا انہوں نے ہر صورت میں سزا دینے پر زور دیا۔
    طریق کار کے مطابق 2مئی 1864ء کو تھانیسری نے اپنے گواہ پیش کئے تو انہیں سننے کی بجائے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ پھانسی کی سزا ہوئی، انگریز جج نے تمام جائیدادوں (جو زیادہ نہ تھیں) کی ضبطی کا حکم بھی صادر کیاتاکہ بچے بھی سڑکوں پر آجائیں اور کوئی کچھ نہ کر سکیں ۔ یوں اپیل کے راستے بھی بند کر دئیے گئے۔
    جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ '' تم بہت ذہین فطین، صاحب علم اور قانون دان ہو، شہر کے نمبردار اور رئیس ہونے کے باوجود تم نے اپنا علم وہنر اور دھن دولت کو سرکار کے خلاف استعمال کیا، اور عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے صرف انکار سے کام چلایا ۔لہٰذا پھانسی کے حقدار ہو، اور میں تمہیں پھانسی گھاٹ پر لٹکتا ہوا دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سمائوں گا‘‘۔
    جعفر تھانیسری سزا سننے کے بعد پرسکون رہے۔ بلکہ جج کی خوشی میں وہ خود بھی شریک تھے، انگریز حیران تھے کہ دنیامیں ایک شخص ایسابھی ہے جسے سزائے موت کا کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس حالت میں بھی مسکرا رہا ہے جس حالت میں دوسروں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں ۔
    تھانیسری نے عدالت میں صرف اتنا کہا......''تم کیا میری جان لو گے ، جان دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے،وہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے اس بات پر بھی کہ وہ میری موت سے پہلے تمہاری جان نکال لے‘‘۔ان کے اس جملے کی گونج دور دور تک سنی گئی۔ہر جگہ ان کی ہمت کے چرچے ہوئے۔
    اپیل کا حق بنتا تھا لیکن کرتے کس کے پاس؟ اور پیسے کہاں سے لاتے؟ پھر ہر جگہ ان کا سامنا الزامات سے کم اور ایک سوچ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کو کچلنے کی سوچ۔ پھانسی کی سزا سنانے کے بعد بھی انگریزوں نے معافی کی گنجائش رکھی، کئی طرح کے لالچ دیئے گئے، ساتھ دینے پر سزا کا پروانہ پھاڑنے کا بھی ذکر ہوا لیکن تھانیسری کہتے ہیں کہ ''میں گرفتاری کے خوف سے بھاگ نکلا تھا ،میرے اللہ کو اسلام کی راہ میں میرا ڈرجانااچھا نہیں لگا اور اس نے مجھے پکڑوا دیا۔ لہٰذ ا دوبارہ میں نے یہ حرکت نہ کرنے کی ٹھان لی تھی‘‘۔
    ان کی دلیری کا سن کر جیل میں انہیں دیکھنے کیلئے آنے والوں کاتانتا بندھ گیا۔ایک گورے نے سوال کیا کہ '' پھانسی کی سزا سننے کے بعد یہ مسرت کیسی؟ آپ نے کہا.... ''اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو رہی ہے ؟
    اسی دوران ایک انہونی ہو گئی۔پھانسی کی سزا سنانے والا جج چند ہی دنوں میں قضائے الہٰی سے ہلاک ہو گیا۔اب پھانسی کی سزا پر عمل کرنے کی ہمت کسی انگریز میں نہ ہوئی ۔چنانچہ سزا کو فوراََ ہی عمر قید میں بدل دیا گیا۔فروری 1865ء تک انبالہ جیل میں رکھنے کے بعد لاہورکی جیل میں منتقل کر دیئے گئے۔ یہاں سے 22فروری کوملتان منتقل کئے گئے لیکن پھر سکھر ٹھٹھہ، کوٹری اور کراچی کی جیلوں کے رنگ بھی دیکھے ۔ ایک ہفتہ کراچی میں رکھنے کے بعد بذریعہ سمندری جہاز ممبئی روانہ کئے گئے۔ 8 دسمبر 1865 ء کو وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کے بعد 22جنوری 1868ء کو کالا پانی بھجوا دیئے گئے ۔ کالا پانی سے 17سال 10ماہ بعد ایک بیوی اور دس بچوں کے ساتھ ہندوستان روانہ ہوئے اور 20نومبر کو انبالہ پہنچئے!
    (مولانا جعفر محمد تھانیسری کی کتاب ''کالا پانی سے منقبس)


    2gvsho3 - انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214780

    Default Re: انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ

    2gvsho3 - انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •