Results 1 to 2 of 2

Thread: ایک پرانی کہاوت

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214780

    candel ایک پرانی کہاوت

    ایک پرانی کہاوت

    surahi.jpg
    ایک کمہار مٹی سے کچھ بنارہا تھا،اس کے ہاتھ مٹی سے بھرے ہوئے تھے ۔بیوی پوچھتی ہے،’’ کیا بنا رہے ہو؟‘‘ کمہارفخر سے سر اٹھا کر کہتا ہے کہ ’’ چلم بنا رہا ہوں،آج کل اس کا بڑا کام ہے، خوب بکیں گی، لوگ بھی خوش رہیں گے‘ ‘۔بیوی نے کہا : ’’اے بندہ خدا! چلم کیوں بنا رہے ہو گرمیوں کا موسم ہے صراحی بنائو،وہ بھی خوب بکے گی‘‘۔کمہار نے کہا : ’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے‘‘۔ مٹی وہیں روک کر دوبارہ سے گوندھ کر صراحی بنا ناشروع کر دی۔ابھی اس نے پہلی صراحی بھی نہیں بنا ئی تھی کہ مٹی سے آواز آئی : ’’اے میرے کمہار کیا بنا رہے ہو،پہلے تو کچھ اور بنا رہے تھے اب کیا کر رہے ہو؟‘‘۔ کمہار نے پیار سے جواب دیا ؛ ’’اب میری سوچ بدل گئی ہے پہلے چلم بنا رہا تھا اب صراحی بنا رہا ہوں۔مٹی سے بھی پیار بھری آواز آئی : ’’میرے دوست ! تمہاری سوچ بدلی میری تو زندگی ہی بدل گئی۔چلم بنتی تو آگ بھری جاتی، خود بھی جلتی اور لوگوں کو بھی جلاتی، اب صراحی بنوں گی پانی بھرا جائے گا، خود بھی ٹھنڈی رہوں گی اور لوگوں کی بھی پیاس بجھائوں گی‘‘۔
    2gvsho3 - ایک پرانی کہاوت

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5878
    Rep Power
    214780

    Default Re: ایک پرانی کہاوت

    2gvsho3 - ایک پرانی کہاوت

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •